پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

انقلاب اسلامی مخالفین کے سربراہوں کے نام نصیحت و صیت

 اردو مقالات انقلاب اسلامی ایران مذھبی سیاسی محضر امام خمینی رہ

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا الہی سیاسی وصیت نامہ /قسط15

انقلاب اسلامی مخالفین کے  سربراہوں کے نام نصیحت و صیت

نیوزنور: امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا الہی سیاسی وصیت نامہ /قسط15/ انقلاب اسلامی مخالفین کے  سربراہوں کے نام نصیحت و صیت کیا اس مختصر وقت میں ان مشکلات اور اس بحران کے کہ  جو ہر انقلاب کا لازمہ ہے، اور اس پر مسلط کردہ جنگ سے تباہی اور بے شمار نقصانات اور لاکھوں غیرملکی مہاجر اور ملکی  پناہ گزینوں کی بھرمار اور  سنگین بے ضابطگیوں کے باوجود حکومت اور جمہوری اداروں کی خدمات کے اندازے کو سابق حکومت  کے آبادکاری کے کاموں کے ساتھ موازنہ کیا ہے؟

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور ؛گذشتہ سے پیوست امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے الہی سیاسی وصیت نامے کی  پندرہویں قسط اگلے سے پیوست ملاحظہ فرمائیں:

انقلاب اسلامی مخالفین کے  سربراہوں کے نام نصیحت و صیت

ن:

میری نصیحت اور وصیت ان جماعتوں ، تنظیموں اور افراد سے جو عوام ، اسلامی جمہوریہ اور اسلام کے خلاف سرگرم عمل ہیں، سب سے پہلے ملک کے اندر اور باہر موجود ان کے لیڈروں سے میری وصیت ہے کہ تم لوگوں نے جس طرح سے  بھی اقدام کیا ، جو سازشیں بھی رچی اور جس ملک کا بھی سہارا لیا ان سب کے طولانی تجربے سے تم کو جو خود کو عالم و عاقل سمجھتے ہو معلوم ہونا چاہئے کہ دہشتگردی ، بم کے دھماکے اور بے بنیاد و بے سرو پیر کے جھوٹے پروپگنڈوں  اور غیر سنجیدہ حرکتوں سے ایک فدا کار قوم کو اس کے راستے سے نہیں ہٹا یا جاسکتا ، کسی بھی حکومت کو ان غیر انسانی اور غیر منطقی طریقوں سے اقتدار سے نہیں محروم کیا جاسکتا ہے، خاص طور سے ایرانی قوم جیسی قوم کو جس کے کمسن بچوں سے لے کر عمر رسیدہ مرد اور بوڑھی خواتین سبھی اسلامی جمہوریہ ، قرآن، مذہب اور مقصد کی راہ میں فداکاری وجاں نثاری کررہی ہیں۔ تم تو جانتے ہی ہو اور اگر نہیں جانتے ہو تو بہت ہی سادہ لوحی سے سوچتے ہو، کیونکہ ملت تمہارے ساتھ نہیں ہے۔ فوج تم لوگوں کی دشمن ہے اور اگر بالفرض فوج اور عوام تمہارے ساتھ اور تمہارے طرفدار تھے بھی تو تمہارے احمقانہ افعال اور مجرمانہ اقدام نے جو تمہاری شر سے انجام پاتے ہیں عوام کو تم سے الگ کردیا اور تم لوگ صرف دشمن بنانے کے سوا کچھ نہ کرسکے۔

میں عمر کے ان آخری ایام میں  تم لوگوں سے خیر خواہانہ وصیت کرتا ہوں کہ اولا ًتم اس طاغوت کے ہاتھوں ستائی ہوئی رنج دیدہ قوم کہ جس نے2500 سالہ ستم شاہی دور کے بعد اپنے بہترین جوانوں اور فرزندوں کو نثار کرکے پہلوی حکومت اور مشرق و مغرب کے خون آشام مجرموں کے ستم سے نجات حاصل کی ہے کے ساتھ بر سر پیکار ہوئے ہو ۔کس طرح ایک انسان کا ضمیر چاہے وہ کتنا ہی پست اور پلید کیوں نہ ہو اس بات پر  راضی ہوسکتا ہے کہ کسی منصب کے حصول کی امید پر اپنے وطن اور قوم کے ساتھ اس طرح پیش آئے اور اس کے چھوٹے بڑے کسی پر بھی رحم نہ کرے؟۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان بے فائدہ اور غیر عاقلانہ کاموں سے ہاتھ کھینچ لو۔ عالمی لٹیروں کے دھوکے میں نہ آؤ۔ جہاں بھی ہو، اگر تم نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے تو اپنے وطن اور اسلام کی آغوش میں واپس آجاؤ اور توبہ کرلو، کیونکہ خداوند عالم رحمن اور رحیم ہے اور ان شاءاللہ اسلامی جمہوریہ اور عوام تمہارے ساتھ در گزر سے کام لیں گے اور اگر کسی ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا خداوند کریم نے معین کردی ہے، اس کے باوجود آدھے راستے سے واپس آجاؤ توبہ کرو اور اگر تمہارے اندر ہمت ہے تو سزا قبول کرلو اور اپنے اس فعل سے خود کو خدا کے سخت عذاب سے بچاؤ اور اگر یہ ہمت نہیں تو جہاں کہیں بھی ہو اپنی زندگی اس سے زیادہ تباہ نہ کرو اور کسی دوسرے کام میں مشغول ہو جاؤ، اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔

مخالفین کے حامیوں کے نام نصیحت و صیت

اوراس کے بعد ان لوگوں کے اندرونی اور بیرونی حامیوں سے وصیت کرتا ہوں کہ کس جذبے کے تحت ان لوگوں کیلئے جن کیلئے اب ثابت ہو چکا ہے کہ وہ  لٹیرے طاقتوں کے لئے کام کرتے ہیں  اور ان کے منصوبوں پر عمل کرتے ہیں اور نادانستہ طور ان کے جال میں پھنس گئے ہیں اپنی جوانی تباہ کررہے ہو ؟ اور تم لوگ کس کیلئے اپنی قوم پر ظلم کررہے ہو؟ تم ان کے دھوکے میں آ چکے ہو ۔اور اگر ایران میں ہو تو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ کروڑوں عوام اسلامی جمہوریہ کے وفادار اور اس کے خیر خواہ ہیں؛ اور واضح طور مشاہدہ  کرتے ہو کہ موجودہ حکومت اور گورنمنٹ جان و دل سے عوام اور محروم طبقات کی خدمت میں مصروف عمل ہے؛ اور جو"خلقی"( عوامی )ہونےاور"مجاہد" و "فدایی"( عوام کیلئے مجاہد و فدا کار) ہونے کے جھوٹے دعویدار ہیں ، وہ خلق خدا کی دشمنی پر کمر بستہ ہیں اور تم جیسے سادہ لوح لڑکوں اور لڑکیوں سے اپنے مقصد کے حصول یا ان دونوں لٹیرے سپر پاوربلاکوں کے مقاصد کیلئے کھیل رہے ہیں اور خود یا ملک سے باہر دونوں جرائم پیشہ سپرپاور بلاکوں میں سے ایک کی آغوش میں بیٹھ کر عیاشی اور تفریح میں وقت گزار رہے ہیں یا ملک کے اندر دہشت گرد اڈوں والے عالیشان محلوں میں بدقسمت مجرمین کی طرح امارت کی زندگی بسر کررہے ہیں اور تم نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیلتے ہیں۔

ملک کے اندر اور باہر موجود تم نوجوانوں اور جوانوں کو میری  مشفقانہ نصیحت ہے کہ غلط راستے سے واپس آجاؤ اور معاشرے کے محروم لوگوں سے جو جان و دل سے اسلامی جمہوریہ کی خدمت کررہے ہیں کے ساتھ متحد ہو جاؤ، اورآزاد و خود مختار ایران کیلئے کام کرو تاکہ ملک و ملت دشمن کے شر سےنجات پائے اور سب ایک ساتھ با عزت زندگی گزاریں۔ کب تک اور کس لئے ایسے لوگوں کے اشارے پر چلتے رہو گے جو صرف اپنے ذاتی مفادات کے سوا کچھ نہیں سوچتے اور خود بڑی طاقتوں کی آغوش و پناہ میں بیٹھے اپنی ہی قوم سے جنگ کررہے ہیں اور آپ کو اپنے منحوس مقاصد اور اقتدار پسندی کیلئے فدا کرا رہے ہیں؟۔ آپ نے انقلاب کی کامیابی کے ان چند برسوں میں دیکھا کہ ان کے دعوے ان کے کردار و عمل کے منافی ہے۔ یہ دعوے صرف صاف دل جوانوں کو دام فریب میں پھانسنے کیلئے ہے۔اور جانتے ہو کہ ملت کے سیل خروشاں کا آپ مقابلہ نہیں کرسکتے ہو اور تمہارے کاموں کا نتیجہ خود تمہارے نقصان اور عمر کی تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔چونکہ ہدایت کرنا میرا فریضہ تھا وہ میں نے ادا کردیا ہے ۔ امید ہے کہ اس نصیحت پر جو میری موت کے بعد تم تک پہنچے گی اور اس میں اقتدار پسندی کا کوئی شائبہ نہیں ہے ، عمل کرو گے اور خود کے سخت عذاب سے نجات دلاؤگے۔ خداوند منان تمہاری ہدایت فرمائے اور تمہیں  صراط مستقیم دکھائے۔

کمینسٹ اور چپ گرایان کے نام صیت

میری وصیت بائیں بازوالوں ، جیسے کمیونسٹوں ، فدائی خلق کے چھاپہ ماروں اور بائیں بازو کی طرف جھکاو رکھنے والے دوسرے گروہوں سے، یہ ہے کہ آپ لوگوں نے مکاتیب اور خاص کر اسلام کے ماہرین  سے مکاتیب  اور مکتب اسلام کی صحیح چھان بین کئے بغیر ، کس جذبے کے ساتھ اپنے آپ کو کس اعتبار سے تیار کرلیا کہ ایک ایسے مکتب  کو اختیار کرنا کہ جو آجکل دنیا میں شکست کھا چکی ہو اور یہ کیا ہو گیا ہے آپ  کہ کئی"ایزم" جوکہ ہر اہل تحقیق کیلئے کھوکھلا ہے اس کے لئے خود کو راضی کردیا ہے؟ وہ کون سا محرک ہے جس نے تم کو اس پر اکسایا ہے کہ اپنے ملک کو سویت یونین یا چین کے دامن میں لے  جانا چاہتا ہو؛اور"تودہ دوستی"(عوام دوستی) کے نام پر اپنی قوم سے جنگ پر کمر بستہ ہوئے ہو یا ملک کو نقصان پہنچاکر اجنبیوں کو فائدہ پہنچانے اور ستم رسیدہ عوام کے خلاف سازش کررہے ہو؟آپ دیکھ رہے ہو کہ کمیونزم کی پیدائش ہی سے اس کی طرفدار، آمریت پسند، مطلق العنان اور اقتدار طلب حکومتیں رہی ہیں۔ کتنی قومیں ہیں کہ جنہیں عوام کی طرفداری کے علمبرداری کےمدعی سویت یونین نے پیروں تلے روند کر صفحہ ہستی سے مٹادیا۔روسی عوام مسلمان اور غیرمسلمان دونوں قومیں ، کمیونسٹ پارٹی کی ڈکٹیٹر شپ میں اب تک ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں اور عالمی  ڈکٹیٹروں کے گھٹن سے بھی زیادہ سخت گھٹن میں ہر قسم کی آزادی سے محروم ہو کر زندگی گزار رہی ہیں۔ اسٹالن جو پارٹی کی نام نہاد شخصیتوں میں سے تھا اس کی آمد و رفت اس کے طنطنے اور اس کی شان و شوکت ہم نے دیکھی ہے۔آج تم دھوکہ کھائے لوگ اس حکومت کے عشق میں جان دے رہے ہو جبکہ سویت یونین اس کے زیر نگین افغانستان جیسے دوسرے پٹھو ممالک کے مظلوم عوام ان ہی کمیونسٹوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو رہے ہیں اور تم لوگ تو عوام کی طرفداری کے دعویدار ہو لیکن جہاں کہیں بھی تم لوگوں کی رسائی ہوئی وہاں تم نے ظلم کیا ۔ تم ہی لوگوں نے تو آمل شہر کے شریف باشندوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے اگر چہ غلط طور پر انہیں اپنا طرفدار بتاتے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں  کو بہلا پھسلا کر عوام اور حکومت سے جنگ کیلئے بھیجا اور وہ مارے گئے۔ کون سے جرائم ہیں جن کا ارتکاب تم نے نہیں کیا ۔ اور تم "طرفدارفدائی خلق محروم"( پسماندہ طبقات کے حمایتی) کو ڈڈھال بناکر  ایران کے مظلوم و محروم خلق کو سویت یونین کی ڈیکٹیٹرشپ کے حوالے کردینا چاہتے ہو  اورایسی خیانت  پر "فدای خلق" اور پسماندہ طبقات کی حمایت کے نام پر عملانے کے درپے ہو ، فرق اتنا ہے کہ "حزب تودہ "( تودہ پارٹی) اور اس کے رفقائے کار اسلامی جمہوریہ کی طرفداری کی نقاب ڈال کر سازشوں میں مصروف ہیں اور دوسری تنظیمیں  ، اسلحے ، دہشتگردی اور بم کے دھماکوں کے ذریعے یہ خیانت کررہی ہیں۔

میں آپ سبھی  جماعتوں اورتنظیموں  یا جو کہ بائیں بازو کے نام سے مشہور ہیں ، گرچہ قرائن و شواہد بتاتے ہیں کہ یہ امریکی  کمیونسٹ ہیں۔ یا وہ تنظیمیں جو مغرب سے ارتزاق اور الہام حاصل کرتی ہیں ، یا وہ گروہ جو کہ  کردستان اور بلوچستان کی حمایت اور"خودمختاری"کے نام پر ہتھیار بدست ہوئے ہیں  اور کردستان اور دیگر جگہوں کے پسماندہ لوگوں  کو ہستی سے نابود کرنے اور ان  صوبوں تک جمہوری حکومت کی طرف سے  ثقافتی،طبی، اقتصادی اور تعمیر نو کی خدمات پہنچانے  کیلئے رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں، جیسے کہ حزب "دموکرات"(ڈیموکریٹک پارٹی) اور "کومله"(کوملہ پارٹی) سے وصیت کرتا ہوں کہ عوام  سے ملحق ہو جاؤ، اور ابتک  اس کا تجربہ کیا ہے کہ ان علاقوں کے مکینوں کو بدقسمت بنانے کے علاوہ تم لوگوں نے کوئی کام نہیں کیا ہے اور نہ ہی کرسکتے ہو۔اسلئے تمہارا،تمہارے قوم کا اور علاقے کے عوام کا فائدہ اسی میں ہے کہ حکومت کا ساتھ دیں اور سرکشی ، غیروں کی خدمت اور اپنے وطن سے خیانت سے دستبردار ہو جائیں اور ملک کی تعمیر میں لگ جائیں ۔ یقین رکھیں کہ اسلام ان کے جرائم پیشہ مغربی بلاک(امریکہ اور یورپ) اور ڈکٹیٹر مشرقی بلاک(سویت یونین) دونوں سے بہتر ہے اور عوام کی انسانی آرزوئیں بہتر طریقے سے پوری کرسکتا ہے۔

مغرب نوازیامشرق نوازی کی غلطی کرنے والے  ایرانی مسلمان جماعتوں کے نام وصیت

اور میری  ان مسلمان جماعتوں سے جو غلطی سے مغرب یا  ممکن ہے کہ مشرق کی طرف جھکے نظر آتے ہیں اور منافقین کی جن کی خیانت اب آشکار ہو چکی ہے، کبھی (اسلام کی)طرفداری کرتے تھے اور اسلام کے مخالفین  اور بد خواہوں پر غلطی سے لعن کرتے اور طعنہ دیتے تھے،  سے  وصیت یہ ہے کہ اپنی غلطی پر اصرار نہ کریں اور اسلامی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کریں، اور رضائے خدا کیلئے حکومت  اور مجلس شورای اسلامی( پارلمنٹ) اور مظلوم قوم کے شانہ بہ شانہ  ہو جائیں ، تاریخ کے ان مستضعفین کو مستکبرین کے شر سے نجات دلائیں اور پاکیزہ فکر، پاک سیرت اور متدین عالم جناب مدرس مرحوم کے اس کلام کو یاد کریں جو انہوں نے اس دور کی افسردہ و غمزدہ  پارلمنٹ میں کہا تھاکہ :اگر اب ہمارا خاتمہ ہونے والا ہی ہے تو  اپنے ہاتھوں کیوں اپنا خاتمہ کریں۔

میں بھی آج  راہ خدا کے اس شہید کی یاد  میں آپ مؤمن بھائیوں سے عرض کرتا ہوں کہ  اگر ہم امریکہ اور سویت یونین کے ظالم ہاتھوں صفحہ ہستی پر سے مٹ جاتیں ہیں اور شرافتمندانہ سرخ خون کے ساتھ اپنے خدا کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں، اس سے بہتر ہے کہ ہم مشرق کی فوج کے سرخ  اور  مغرب کے سیاہ  پرچم تلے عیش و عشرت کی زندگی گزاریں۔ اور یہ انبیای عظام ، ائمہ مسلمین  اور بزرگان دین کی سیرت رہی ہے اور لازمی طور ہمیں ان کی پیروی کرنی ہوگی، اور لازمی طور عقیدہ پیدا کرنا ہوگا کہ اگر ایک ملت ٹھان لے کہ غیروں پرانحصار کئے بغیر زندگی کی جاسکتی ہے کر سکتے ہیں؛ اور عالمی طاقتیں ایک ملت پر ان کے عقیدے کے خلاف عقیدہ نہیں تھوپ سکتے ہیں۔ 

افغانستان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ اگر چہ اس ملک کی غاصب حکومت اور بائیں بازو کی پارٹیاں سویت یونین کے ساتھ تھیں اور اب بھی ہیں ،مگر اب تک عوام کو جھکانہ سکیں۔اس کے علاوہ اب دنیا کی  پسماندہ قومیں بیدار ہو چکی ہیں اور اب وہ دن دور نہیں گا کہ یہ بیداریاں ، ایک تحریک اور انقلاب میں تبدیل ہو جائیں گی اور اپنے آپ کو ستمگروں اور سامراجوں کی چنگل سے نجات حاصل کرلیں گی۔ اور آپ اسلامی اصولوں کے پابند مسلمان ، دیکھ رہے ہیں کہ مشرق و مغرب سے جدائی و علیحدگی کی برکا ت سامنے آرہی ہیں۔اور مقامی متفکر دماغوں نے کام کرنا شروع  کردیا اور خود کفیلی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور جو کچھ مغربی اور مشرقی خائن ماہرین نے ہماری ملت  کیلئے انجام پاناممکن  ٹھہراتے رہے، آج نمایاں طور پر ملت  کے ہاتھوں اور صلاحیت  نے اسے ممکن کر دکھایا اور ان شاء اللہ تعالی  طویل عرصے کیلئے انجام دیتے رہیں گے۔ اور صد افسوس کہ یہ انقلاب تاخیر سے وقوع پذیر ہوا اور کم از کم محمد رضا کی کثیف جابرانہ حکومت کے اوائل ہی میں نہیں آیا، اگر اسی وقت یہ انقلاب آگیا ہوتا توغارت زدہ ایران اس ایران کے بجائے کچھ اور ہوتا۔

قلمکاروں ، مقررین ، روشن خیالوں ، اعتراض کرنے والوں اور کینہ رکھنے والوں کے نام وصیت

میری قلمکاروں ، مقررین ، روشن خیالوں ، اعتراض کرنے والوں اور کینہ رکھنے والوں سے  وصیت یہ ہے کہ بجائے اس کےکہ اپنا وقت اسلامی جمہوریہ کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے ، اور اپنی پوری صلاحیت کو مجلس(پارلمنٹ)،حکومت اور سبھی خدمتگذاروں  کی بدبینی، بدخواہی اور بدگویی کرنے میں صرف کرتے ہو ، اور اس کام سے اپنے ملک کو سپرطاقتوں کی جھولی میں ڈالنے کی طرف دھکیلتے ہو، اپنے خدا کے ساتھ ایک رات خلوت میں بیٹھ کر اور اگر خدا پر عقیدہ نہیں رکھتے ہو تو اپنے ضمیر کے ساتھ خلوت میں پوچھیں اور اپنے باطنی  انگیزے کہ جس سے اکثر انسان بے خبر رہتے ہیں کا جائزہ لیں،دیکھیں کہ  کیا معیار اور کس انصاف کے تحت  سرحدوں پر اور شہروں میں ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ان جوانوں کے خون سے آنکھیں چراتے ہو اور اس ملت کے ساتھ جو ملکی اور غیر ملکی لٹیروں اور ستمگروں کی سامراجیت سے رہائی چاہتی ہے اور  اپنی جان اور اپنے عزیز فرزندوں کی خون کی قیمت پر آزادی و خود مختاری حاصل کی اور فداکاری و جاں نثاری کے ساتھ اسکی حفاظت کرنا چاہتی ہے، آپ اس قوم سے نفسیاتی جنگ کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اختلاف انگیز اور خیانت آمیز سازشیں کررہے ہیں اور مستکبرین ، نیز ستمگروں کیلئے راستہ کھول رہے ہیں۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ اپنی فکر اور قلم وبیان کو وطن کی حفاظت کیلئے اور حکومت ، مجلس اور ملت کی رہنمائی میں استعمال کریں؟۔کیا بہتر نہیں ہوگا کہ اس مظلوم ومحروم قوم کی مدد کریں اور اپنی مدد سے اسلامی حکومت قائم کریں؟۔ کیا  یہ مجلس(پارلمنٹ) ، صدر جمہوریہ ، حکومت اور عدلیہ کو سابقہ دور حکومت سے بدتر سمجھتے ہیں؟ کیا  ان مظالم کو بھول گئے  جو کہ اُس لعنتی حکومت نے اس بے کس مظلوم قوم پر روا رکھے تھے ؟ کیا  نہیں جانتے کہ یہ اسلامی ملک اُس زمانے میں امریکہ کا فوجی اڈہ تھا اور اس کے ساتھ ایک کالونی جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ پارلمنٹ سے لے کر حکومت اور فوج سب پر ان کا قبضہ تھا۔ ان کے مشیر، صنعتکاراور ماہرین  اس ملت اور ملت  کے ذخائر کے ساتھ کیا کرتے تھے؟کیا ملک بھر میں بدکاری  اور مراکز فساد کو پھیلانے کیلے،عشرتکدوں ،قمارخانوں، میخانوں،شراب کی دکانوں اور سینماگھروں سے لے کر   دیگر  مراکز تک کہ جو جوان نسل کو تباہ کرنے کے بڑے  ذرائع تھے کو بھول چکے ہیں؟کیا اس حکومت کے   ذرائع ابلاغ،سراسر فساد انگیز غیر اخلاقی جرائد اور اخبارات کو بھول گئے ہیں؟اور اب جبکہ ان غیر اخلاقی اڈوں کے آثار تک موجود نہیں ہیں،اسلئے چندعدالتوں میں یا چند جوانوں کہ شاید ان میں اکثرمنحرف گروہوں کی طرف سے اثر و رسوخ پیدا کئے ہوں تاکہ اسلام اور اسلامی جمہوریہ کو بدنام کرسکیں  غلط کام انجام دیتے ہیں، اور جو مفسد فی الارض  ہیں اور اسلام اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف  اٹھے ہیں ایسے چند افراد  کو کیفر کردار تک پہنچانے  پر آپ چیخ اٹھتے ہیں ،اور ان کے ساتھ  جو کھلے عام اسلام کی مذمت کرتے ہیں  اور اسکی مخالفت میں ہتھیاروں کے ساتھ یا قلم اور زبان کے ساتھ جو کہ مسلحانہ جنگ سے بھی بدتر ہے، بر سر پیکار ہیں  سے جا ملے ہیں اور ان کے ساتھ برادری کا ہاتھ بڑا رہے ہیں؛جنہیں خداوند نے مھدور الدم فرمایا ہے انہیں نورچشم کے طور یاد کرتے ہو، جن لوگوں نے 14اسفند(5مارچ1979) حادثے کو وجود میں لایا اور  بے گناہ جوانوں کو زد و کوب کرکے شہید کیا ان کے ساتھ آپ بیٹھ کر معرکہ کے تماشائی بنے بیٹھے ہیں،ایک اسلامی اور اخلاقی عمل ہے!اور حکومت و عدلیہ معاندوں، منحرفوں اور ملحدوں کو اپنے کیفر کردار تک پہنچا رہے ہیں، اور اس پر آپ  فریاد بلند کرتے ہوئے مظلومیت کی دہائی دے رہے ہیں؟میں آپ بھائیوں کیلئے کہ آپ کے گزشتہ حالات سے کسی حد تک مطلع ہوں اور آپ میں سے بعض  سے لگاؤ رکھتا ہوں اور آپ کے حالات پر افسوس ہو رہا  ہے، لیکن ان لوگوں کیلئے کوئی افسوس نہیں، جنہوں نے خیرخواہانہ لباس میں شرارتیں کیں ، چرواہے کے بھیس میں بھیڑیئے تھے اور ایسے کھلاڑی تھے جو سب کا کھلواڑ اور مذاق بنا کر ملک و ملت کو تباہ کرنے اور دولٹیری سپر طاقتوں میں سے ایک کی خدمت کرنے کی فکر میں تھے ۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنے پلید ہاتھوں سے جیالے جوانوں، بزرگ شخصیتوں اور معاشرے کی تربیت کرنے والے علماء کو شہید کیا اورمظلوم مسلمان بچوں پر رحم نہیں کیا ،اسطرح خود کو سماج میں رسوا  کیااور خداوند قہار کی بارگاہ میں مخذول ہوئے اور اب ان کے لئے واپسی کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ  ان پر نفس امارہ کا شیطان  حکومت کر رہاہے۔

لیکن آپ مؤمن بھائی حکومت اور مجلس(پارلمنٹ) کہ جو پسماندہ طبقات،مظلوموں،سراسر بے سروسامان اور زندگی کی تمام نعمتوں سے محروم بھائیوں کی خدمت کرنے کی کوشش میں لگے ہیں کی شکایت کرنے کے بجائے ان کی مدد کیوں نہیں کرتے ہو؟ کیا اس مختصر وقت میں ان مشکلات اور اس بحران کے کہ  جو ہر انقلاب کا لازمہ ہے، اور اس پر مسلط کردہ جنگ سے تباہی اور بے شمار نقصانات اور لاکھوں غیرملکی مہاجر اور ملکی  پناہ گزینوں کی بھرمار اور  سنگین بے ضابطگیوں کے باوجود حکومت اور جمہوری اداروں کی خدمات کے اندازے کو سابق حکومت  کے آبادکاری کے کاموں کے ساتھ موازنہ کیا ہے؟کیا آپ نہیں جانتے کہ اس زمانے میں آبادکاری کے کام صرف شہروں  وہ بھی متمول محلوں کے لئے مخصوص تھے؛ اور غریب عوام اور پسماندہ طبقات  کا ان کاموں میں انتہائی کم حصہ ہوتا یا اصلا نہیں ہوتا تھا؛ اور موجودہ حکومت  اور اسلامی ادارے ان پسماندہ طبقات کی دل و جان سے خدمت کررہے ہیں؟ آپ مؤمن افراد بھی حکومت کے حامی بنیں تاکہ کام جلدی انجام پائیں اور پروردگار کی خدمت میں چاہے نہ چاہے حاضر ہونا  ہی ہے وہاں اسکے بندوں کی خدمتگذاری کے تمغوں کے ساتھ جائیں۔


تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی