پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

کشمیر مسئلے کا منصفانہ حل صرف 1331 تحریک سےممکن

 اردو مقالات مکالمات سیاسی کشمیر

کشمیر مسئلے کا منصفانہ حل صرف 1331 تحریک سےممکن

 ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی کی ہدایت ٹی وی کے ساتھ گفتگو:

کشمیر مسئلے کا منصفانہ حل صرف 1331 تحریک سےممکن

نیوزنور: جب تک کشمیری عوام پاکستان کےنسبت جو جذباتی  چشمہ جو  لگائے ہوئے ہیں کو نہیں اُتاریں گے اور جب تک نہ پاکستانی عوام کشمیریوں کے  حقیقی خیر خواہ  نہیں بنیں گے اور جب تک نہ وہی بیان  جو 2008ء  میں ذرداری صحاحب نے صدر کی حیثیت سے کہاتھاکہ؛"  کشمیر کی تحریک ،کشمیریوں کی ہے" اور  پاکستان صرف ان کا ہمدرد   اور ان کے  ساتھ کھڑا ہے۔  جب تک نہ یہ عملی طورپر   کیا جائےگا تب تک  کشمیری عوام کا یہی حال رہےگا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کےمطابق لندن میں دائرہدایت ٹی وی کے "آج ہدایت کے ساتھ" پروگرام کے عالمی منظر  میں میزبان سید علی مصطفی موسوی نے بین الاقوامی تجزیہ نگار اور نیوزنور کےبانی چیف ایڈیٹر حجت الاسلام حاج سید عبدالحسین موسوی[قلمی نام ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی] سےآنلاین مکالمے کے دوران "پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر " کے عنوان کے تحت لئے گئے انٹرویو کو مندرجہ ذیل قارئین کے نذر کیا جا رہا ہے:

سوال : کشمیری ڈیوائد نظر آتے ہیں، ایک دھڑا پانچ فروری کو  یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں کچھ دھڑے 11 فروری کو،اس کے کیا وجوہات ہیں؟ ہم ایک  پلیٹ فارم کے اوپر نہیں ہیں تو آزادی  کی بات آگے کیسے چلےگی ؟

ج) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمین‏ ۔ اللَّهُمَّ ‌و‌ أَنْطِقْنِی بِالْهُدَى ، ‌و‌ أَلْهِمْنِی التَّقْوَى ، ‌و‌ وَفِّقْنِی لِلَّتِی هِیَ أَزْکَى

یہ سوال اتنا پیچیدہ ہے جو  مجبور کررہا سوچنے پر جھوٹ بولوں یا سچ !قرآن کہتا ہے کہ؛"لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَکَ الْأُمُورَ " «سورہ توبہ/48»اللہ آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سےمخاطب ہوکے فرماتا ہے   کہ ان فتنہ بازوں کا  ہنر ہی یہی ہے کہ آپ کو غلط طریقے سے  تصویرپیش کرتے ہیں، اگر ہم آپ کو نابتائیں  آپ  بھی فیصلہ لینے میں تردیدکریں گے ۔تو یہ حشر ہے ہمارے مسائل کا  ہمیں ہرحقائق  سے بے خبرر کھا جاتا ہے۔

  پاکستان   جتنا ہی صحیح ہے اتنا ہی غلط ۔ میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ  کی بات کررہا ہوں جب کہ میں کسی تردید کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ کشمیری عوام پاکستانی عوام  کے بے حد ہی شکر گذار  ہیں،جنہوں نے پوری تاریخ میں بڑی محبت دکھائی ہے کشمیریوں کےساتھ، جس کا کوئی موازانہ  کسی بھی اعتبار سے کسی اور سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔مگر جو پاکستانی  اسٹیبلشمنٹ ہے  اس نے کشمیر کےساتھ  شروع سے ظلم کیا ہے  اورہماری تمام تر مصیبت کی جڑ پاکستان  ہے۔ اگر کشمیری عوام پر یہ  مسئلہ چھوڑا جاتا شائد ہم اپنے مسئلے کو اڈریس کرنے میں  کامیاب  ہوئے ہوتے۔  جو ہماری تحریک 13 جولائی 1931ء  میں اپنے شباب کو پوچھی  جس کی گود سے  مسلم کانفرنس  نکلی وہی پھر نیشنل کانفرنس بھی بنی اور پھر نیشنل کانفرنس نے ہندوستان  زیر انتظام کشمیر پہ حکومت  کی اورمسلم کانفرنس  نے پاکستان  زیر انتظام کشمیر پہ حکومت ۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ اصل میں ہماری تحریک وہاں دھب کے رہ گئی ہے۔

سوال :  اصلی مسئلے کو کیوں دبایا جاتا ہے ؟

ج)امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ  ہمیں" لاشرکیہ ولا غربیہ"سیاست کو اختیار کرکے دوسرے بلاکوں  کو چھوڑ کر   اپنے پیروں پہ کھڑا ہونا  ہے،نہ مغربی ڈکٹیشن  پہ نہ مشرقی بلاکوں کی  کی ڈکٹیشن پہ۔اور ہم چونکہ غیروں کے اشاروں پر چلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے مقاصد کو  حاصل نہیں کرپا رہے ہیں۔

  پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر ابھی تک  کسی ایک بھی اسلام شناس کو وہاں آگے ٹکنے نہیں دیا جاتا، کیا ایسا کوئی وہاں  صدر بنتا ہے، وزیر اعظم  بنتا ہے؟۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ  ایک ایسا شخص وزیر اعظم بنتا ہے جو سورہ توحید نہیں پڑھ سکتا ہے، اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی کوشش کی  مگر وہ سورہ توحید نہیں  پڑھ   سکا۔اسلام شناس کو راہ نہیں دی جاتی کہ وہ اسلامی اقدار کی حاکمیت کو یقینی بناتا تاکہ  دنیا کو پتہ چلتا کہ کس اسلامی جمہوریہ پاکستان  کا خواب بڑرگوں نے دیکھا تھا  اورکس  گرم خون سے اس کو سینچ کے وجود میں لایا تھا ۔ نہ اس ملک کے ساتھ انصاف ہورہا ہے نہ اسلام کے ساتھ ،ایسے میں جب وجود میں آیا تو اسکے بعد  پہلی فرصت میں اسی نام پہ ،اسلام  کے نام پرمسئلہ کشمیر  میں ٹانگ آڈائی  اورقبائلوں کا حملہ ہوگیا وغیرہ ۔

تب  سے لیکر آج تک  یہ اصلی  ٹریک پر  واپس نہیں لوٹ رہا ہے ۔  ابھی مسئلہ کشمیر کو اس طریقے سے پیش کیا  جاتا ہے کہ گویا  کشمیر  ہندوستان کے باقی ریاستوں کے مانند ہے  جیسے کہ  یہ ہندوستان  کا، انڈین یونین کا کوئی  حصہ تھا،  جس کو ہندوستان سے الگ کرنے سے ہندوستان کے لئے مسائل کھڑے ہوں گے   کہ ہم کشمیر کو آزادی دیں گے  ہم نیکسلیوں کو کیا کہیں  گے ۔ہم پنجاب کو کیا کہیں گے۔  ہم دوسرے سٹیٹوں کو کیا کہیں گے ۔ کوئی اور سٹیٹ ہمیں آزادی مانگے وغیرہ۔جبکہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔  کشمیر ایک تاریخ ہے  جس کی اتنی پرانی تاریخ ہے  جتنی ہندوستان کی ہے ۔ مگر پاکستان نےاس کی شکل بگاڈ کے رکھ دی ہے۔ اگر پاکستان اس بات  کی حمایت کرتا تو کشمیر کب کا آزاد ہوا ہوتا۔

 میں نے  کئی بار اس بات کو ایڈرس کرنے کی ، اجاگر کرنے کی کوشش کی  کہ اگر  پاکستان کے قیام میں اسلامی تحریک  کا کوئی تصور حقیقت میں ہوتا تو وہاں پر پاکستان نامی ملک کو وجود پیش نہیں کیا جاتا وہاں پر کشمیر کا نام پیش ہوا ہوتا جس سے ہندوستان اورکشمیر قائم رہتا ۔  کیونکہ کشمیر ہی ہندوستان کے بغل میں  ایک اسلامی اسٹیٹ  پہلےموجود تھا۔ کیونکہ قیام پاکستان میں اسلامی فکر پیچھے نہیں تھی اسلئے  کشمیر اورہندوستان کی شکل  میں مسائل حا حل نہیں ڈھونڈا گیا۔نہ ہندوستان توڑنے کی بات بیچ میں  بلکہ پاکستان کے بجائے سارا خطہ  کشمیر کے نام سے ہوتا۔  نہ کوئی تنازعہ ہوتا،  نہ کوئی مار پیٹ ہوتی،  نہ یہ جو کدورت  اوردشمنی  ہوتی۔  ان دوبھائیوں کے بیچ میں   ہندوستان اورپاکستان میں اس کا وجودہی نہیں ہوتا  بلکہ اس اسلامی  نمونے کا  وہ بہار دیکھنے کو ملتا  جو اس کی پرانی تصویر  تھی ۔کبھی کشمیر خطے کا سوپر پاؤر تھا وہ آج  اسلامی تصویر کےساتھ قد بلند کرتا۔چونکہ کوئی اسلامی فکر حکمفرما نہیں تھی   اس کیلئے ایسا کوئی اقدام نہیں ہوا۔  یہ تب ہوتا جب وہاں کے مفکر خود بیٹھ کے اس کا جواب  ڈھونڈتے۔جب اپنے دماغ کو کرایہ پر دیا جائے تو یہی کچھ ہوتا ہے ، جسطرح میں نے گیلانی صاحب کو  ایک خط لکھا تھا انہوں نے جب امام خامنہ ای کی  سیاست کی تنقید کی تھی  کہ ایران شام میں مداخلت کررہا ہے اسی وجہ سے  داعش نے ایران کے اندر حملے کئے۔  میں نے کہاکہ مجھے پتہ ہے کہ آپ بین الاقوامی سیاست کے  الف ب سے واقف نہیں ہیں اسلئے آپ کو کشمیر کی سیاست  سے باخبر کرونگا کہ آپ کو مسئلہ کشمیر کی کتنی خبر ہے۔اس حوالے سے  جواب دینا تودور کی بات، کشمیر  کے ایک اخبار نے میرے خط کو قسط وار کیری کرنے کیلئے کوشش  شروع کی، لیکن گیلانی صاحب کے غنڈوں نے ان کے دفتر کی  تھوڑ پھوڑ کرکے اس کے مدیر اعلی  کی حالت   ہی خراب کردی ۔اس خط کو   چھپنے نہیں دیا۔ تو اس سے بھی پتہ چلتا کہ  ہم اپنے پیروں پہ  کھڑے نہیں ہیں ،ہم   بیساکھیوں پہ کھڑے ہیں اور اس لئے ہمیں  ڈر رہتا ہے کہ اگر بیساکھی   پھسل جائے  ہم گرجائے گیں ۔

سوال : جب تک بیساکھیوں سے اُتر یں گے نہیں جب تک اپنے پیروں پہ کھڑے نہیں ہوجائیں گے تب تک کشمیر کا  مسئلہ حل   نہیں ہوگا   فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوگا  ، روہنگیا میں کون بہتا رہے گا،...  پھر یہ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا ؟

ج) ایسا ہی چلتا رہے گا ۔تعصب کا عالم دیکھتے ہیں کہ  ایران سے سبق  نہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔  ایران صرف اس وجہ سے کامیاب ہوا کیونکہ  اپنے پیروں پہ کھڑا ہوگیا۔ اس نے عملی طورپر لاشرکیہ ولا  غربیہ  پہ عمل کردکھایا یعنی خود اپنے پیروں پہ کھڑا ہوگیا، اس نے بیساکھیاں توڑ دی  اوراپنے پیروں پہ  لنگڑے لولے شکل میں چلنا شروع کیا اور اب  دیکھئے کہ  کس بڑی طاقت کی طرح اُبھر  رہا ہے۔ اور جنتی بھی سینکشنز  بین الاقوامی پابندیاں عائد ہوتی رہیں اس پہ   اتنا ہی وہ طاقتور ہو رہا ہے۔اور یہ ظرفیت صرف مسلمانوں  کے اندر ہے۔ اگر آپ  اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کا ارادہ کریں  یقیناً آپ ایک بڑی طاقت کی  شکل میں اُبھریں گے۔  کیونکہ استعماری قوتیں ان پہ وہی حاکم بنائے بیٹھے ہیں جو ان  کو نفسیاتی  دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں کہ اگر آپ امریکہ  کی بات نہیں مانئیں گے ،اگر آپ  اسرائیل کی حمایت نہیں کریں گے، اگر آپ استکباری اوراستعمار ی قوتوں کے ہاں میں ہاں  نہیں ملائیں گے  آپ تباہ ہوجائیں گے وہ ہوجائے گا یہ ہوجائےگا۔۔۔ ۔

سوال:  اب جب ایران  نے جیسےآپ نے کہاکہ لنگڑے لولے ہی  سےکھڑے ہوئے بیساکھیاں پھینک دی اورآج ایک عظیم قوت  کی طرح  اُبھر رہا ہے اب اس پہ  بھی شک کررہے ہیں کہ ایران اور امریکہ آپس میں ملے ہوئے ہیں؟

ج)حقیقت میں عالم اسلام کے اکثر حکام وہی ہیں جو  شیطان کے پالے ہوئے ہیں وہ تو شیطانی افکار کو ہی بڑھاوا دیں گے وہ تو رحمانی  افکار کو تقویت  نہیں پہنچانے دیں گے۔یہی وجہ ہے کہ  اب یہ شوشہ جو کہ حقیقت میں صہیونی پلان ہے اور اب زبان زد عام بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اس بات کو   بڑا چڑھا کے پیش کرتے ہیں  کہ  یہ دراصل  امریکہ اور ایران آپس میں ملے  ہیں،  ان کا گیم پلان یہی ہے   تبھی تو ایران امریکہ کے سامنے سرُاٹھا سکتا ہے وغیرہ۔

یہ باور کرانے کیلئے کہ اگرجو کوئی اللہ پہ اوراپنے عوام پہ،  اپنی صلاحیتوں پہ یقین رکھے گا  وہ  امریکہ کے سامنے  اپنا قد بلند نہیں کرسکتا، سر اُٹھا نہیں سکت مگر یہ کہ امریکہ کا ہی آشرواد حاصل ہو ۔

اکثر اہلسنت بھائیوں کے اندر یہی  استدلال دیکھنے کو ملتا ہےوہ نہیں مانتے ہیں کہ ایران نے عملی طورپر اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر دکھایا کہ  وہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نہیں  امریکہ ہی اس کے پیچھے ہے۔  اگر نیک نیتی سے دیکھا جاتا ایران سب  کیلئے ایک نمونہ عمل ہے۔ایران کو نمونہ عمل تسلیم نہ کرنے  کے بارے میں پوچھا جانا چاہئے کہ کہ  تشیع  کے ساتھ اتنی  دشمنی کیوں ۔ اہلبیت علیہم السلام کےساتھ اتنی   دشمنی کیوں ہے۔

  یہ سوال ہمیں پوچھنا چاہئے کہ اگر اہلبیت  کے ماننے والے  مکتب سے ، اہلبیتؑ کے درس گاہ سے  آپ کو رہنما اصول  ملتے ہیں آپ لینے میں بخل کیوں کرتے ہیں۔ کل  ایسا  زمانہ  تھا کہ  ہم کوئی بات کرتے تھے تو  1400 سو سال پیچھے جانا پڑتا تھا ، مگر آج ہمیں وہ ماڈل  سامنے مل رہا ہے جو 1400 سال کے فارمیٹ کے ساتھ ہمیں آج دکھا رہا ہے۔ آپ اس کو قبول کرنے کیلئے تیار  کیوں نہیں ہورہے ہیں۔ اور ایسی سوچ حاکم بنانا دشمن کا کام ہے ۔جس نے ہمارے اندر  یہ بےجا تعصب کی ذہن بنائی ہےاور اس کیلئے تیار نہیں ہورہے ہیں کہ  حقیقت  حال  دیکھ کر  حقیقت کو پرخ کر صحیح راستہ اختیاکریں ۔

سوال : جو ایران میں ،مشہد مقدس کے اندر ہندوستان کی مخالفت کے باوجود کشمیر پر فلم دکھائی گئی اس کا کیا پس منظر تھا؟

 ج)ایران  کادعویٰ ہےکہ اہلبیت  علیہم السلام کے نقشے قدم پہ چلتے ہیں،  یوں اس کیلئے  ہندوستان اورپاکستان میں کوئی فرق نہیں ہے۔اگر ایران کیلئے ہندوستان دائیں آنکھ  ہے تو پاکستان بائیں آنکھ ہے۔ کیوں؟  کیونکہ یہ اہلبیت  علیہم السلام کی سیرت ہے ۔پاکستان  اور ہندوستان کے اندر اگر  چھوٹے سیاسی مسائل کو لے کر تعصب سے کام لیاجارہا ہے کہ جس  سے انسانیت کے دشمنوں کو فائدہ پہنچتا ہے ۔جس سیاست  کے ساتھ پاکستان اورہندوستان  آپس میں ،الجھ رہے ہیں لڑ رہے ہیں اس سے کچلا کون جارہا ہے ؟عوام۔ اس کی سزا  عوام  جھیل رہی ہے ،وہ عوام سے پوچھئے۔

  ایران کو اسلامی اعتبار سے  یہی ذمہ داری بنتی ہے کہ  ایران کاموقف اورہر مسلمان  کا اورہر آزاد  انسان کا  موقف بھی یہی ہونا چاہئے کہ  دنیا میں ایک صرف  ایک غیر  قانونی ناجائز حکومت وجود میں آئی ہے اس کی  نابودی کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے وہ اسرائیل ہے ،باقی تمام ممالک، ان کے سرحدوں کی حفاظت ، وہ  چاہئے امریکہ ہو، سعودی عرب ہو ،ہندوستان ،پاکستان  ہو چاہئے کوئی بھی ملک ہو ان کے سرحدوں کی حفاظت  اوران کا احترام کرنا ہر  مسلمان کے لئے اور ہر آزاد انسان  کا فرض ہے۔ تویہ   ایک عمومی اصول ہے جس کو اب  عملی طورپر ایران  عملاتا ہے اوردکھاتا ہے۔ تو ایسے میں یہاں پر  جو ظلم  ہندوستان کشمیر میں کررہا ہے  ایران اس پر  نہ کبھی خاموش   بیٹھا ہے اورناہی بیٹھے گا۔اسی طرح   پاکستان میں جو وہاں کے عوام کےساتھ  حکومت جو ظلم  کررہی ہے  ایران نے اس  پر کبھی خاموشی اختیار  نہیں کی ہے چاہے وہ   پارہ چنار میں ہو رہا ہو یا کسی اور صوبے میں ہو رہا ہے ایران اس پر نہ کل خاموش تھا نہ آج ہے۔پاکستاتی اقوام کےساتھ جو آج کل ظلم ہورہا ہے وغیرہ۔  جو ایران کا دعویٰ ہے کہ  ہم مظلوموں کےساتھ ہیں  حتیٰ اگر وہ مظلوم  غیر مسلمان ہو،  ایران  اس کے بغل میں کھڑا ہوگا،کیونکہ یہ اہلبیتؑ کی سیرت یہی رہی ہے ۔

اور جو فلم بنی تھی کہ  ہندوستانی کیسے مظالم کشمیریوں پر ڈھارہے ہیں ۔ اگرچہ اس پہ ہندوستان نے کوشش کی اور ظاہر سی بات ہے کہ  اپنی سفارتی کوشش ضرور کی کہ یہاں ایران میں  وہ فلم نہ دکھائی جائے۔ مگر جب  دیکھاگیا کہ  بات تو صحیح  ہے  کیوں نہ  لوگوں تک  حقائق پہنچاجائے۔ ایران کسی سے ڈرتا نہیں ہے اگر وہ ڈرتا  تو پھر اسرائیل  کو اس حالت تک نہیں پہنچاتا،  امریکہ  کی یہ حالت نہیں بنادیتا ۔ مگر یہ بات میں پھر سے واضح کروں  کہ ایران کیلئے ایک  ذمہ دار ملک ہونے کے اعتبار سے  پاکستان اورہندوستان میں کوئی فرق نہیں  کیونکہ پاکستان سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی ہندوستان میں  آباد ہیں اوراس کافریضہ منصبی بنتا ہے اس حکومت کا کہ  وہ پاکستان سے زیادہ ہندوستان کا خیال رکھے  کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق  کاخیال رکھے تو  یہ کسی مخصوص  سیاست کا شکار نہ کبھی  ہوئے تھے نہ کبھی ہونگے ۔

سوال : چونکہ  تاثر یہ دیا جاتا ہے  کہ پاکستان اور ایران دوبرادر اسلامی ممالک  ہیں اس لئے  ہندوستا ن سے تعلقات ایران کے کم ہونا چاہئے مگر آپ نے جو توجیہ پیش  کی کہ پاکستان سےزیادہ مسلمان  آلریڈی ہندوستان میں  موجود ہیں تو فرض  بنتا ہے کہ  دونوں  کے ساتھ برابر کے تعلقات رکھے لیکن ہندوستان تو کشمیر میں بہت ظلم کررہا ہے اس مسئلے کا کیا ہوگا؟

ج) میں نے جو پہلے ہی  ایک جملے میں واضح کیا  کہ ہم  اپنے ایجنڈے کے بجائے کسی اور کےایجنڈے پہ کام کررہے ہیں۔

  میری نظر میں کشمیر میں ابھی  عوامی تحریک شروع نہیں ہوئی ہے۔ جو شروع ہوئی تھی وہ 13 جولائی 1931ء  کو شباب کوپہنچی تھی ،جو میں بار بار کہتا رہا  ہوں کہ  ہمیں کشمیر میں 13 جولائی 1931ء تحریک شروع کرنی  ہے، وہ دن ابھی تک  نہیں آیانہیں ہے۔ 13 جولائی 1931ء  کو جو تحریک اپنے پروان کو چڑھی تھی اورجس کو بعد میں فریج میں  رکھا گیا، اس کو فریج میں سے نکال کے اس کو دیکھنا ہے کہ وہ کس حد تک حیات  رکھتا ہے۔ اوراس حوالے سے بہت سارے  لوگ اتنہائی زیادتی کرتے ہیں ،اس جملے کو  شائد اکثر لوگ کشمیر میں    پسند نہ کریں   کہ  مرحوم شیخ محمد عبداللہ صاحب   کو براُ بلا کہتے ہیں،  پر میں کہتا ہوں کہ اس زمانے میں جو کچھ آزادی کشمیر کی تحریک کو زندہ رکھنے کیلئے  کرنا چاہئے تھا انہوں نے کیا،اوربہت ہی عمدہ طریقے سے کیا ،جس کی شہادت  ہندوستان کا آئین 370  دے رہا ہے۔  کتنی بڑی کامیابی شیخ عبداللہ نے حاصل کی  ہے۔اور چونکہ وہ اس تحریک کو چلانے میں اکیلے میدان میں تھے  انہوں نے بظاہر کہاکہ میں اتنا کرسکا ہوں اورآگے  جوان آئیں گے وہ اس کو  مکمل کریں گے ۔

میں مسئلہ کشمیر کو نہ کوئی مذہبی اور نہ ہی کوئی سیاسی مسئلہ سمجھتا ہوں جبکہ یہ دونوں بعد کے تعبیر ہیں کیونکہ یہ حقیقی اورحقوقی مسئلہ ہے۔ حقیقی مسئلہ یعنی یہ ایک زندہ جاوید مسئلہ ہے اورحقوقی مسئلہ یعنی یہ قانونی مسئلہ ہے یہ   لیگل مسئلہ ہے۔  ایک لیگل مسئلے کو  لیگل لائنز پہ حل  کرنا ہوگا۔جس کیلئے ایک حقیقی حقوقی پیشرفت شیخ محمد عبداللہ نے  آرٹیکل 370 سےاس کی ضمانت  فراہم کرکے رکھی ہے اور اس کے بعد میری نظر میں جو بڑ اقدم تھا مسئلہ کشمیر کو حقیقی اور حقوقی مسئلے کے پیش نظر تھا وہ 2008ء میں  پاکستانی صدر ذرداری صاحب کا وہ بیان تھاکہ جب انہوں نے کہا کہ :"  کشمیریوں کی تحریک کشمیریوں کی ہے وہاں عسکریت  کا کوئی رول نہیں بنتا ہے  یہ دہشتگردی ہے"۔

اور  کشمیری جو نام نہاد لیڈر  تھے انہوں نے اتنا دباؤ بنا یا پاکستان پر اور کشمیر بنے گا پاکستان نعرہ بلند کئے جس سے  پاکستان کو مجبور کیاگیا وہ اپنا بیان واپس لے اور صدر پاکستان نے کہا کہ میں ایسا کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔

سوال: ایک سادہ سوال کرتا ہوں کہ  مولانا فضل الرحمان کاکشمیر کمیٹی کے حوالے سے کیا کردار بنتا ہے ۔؟

ج) المیہ تو یہی ہے ۔ آپ  دیکھئے کہ جب بھی  نیشنل لیول پہ  پاکستان کسی ڈیلی گیشن کو ڈیپوٹ کرتا ہے  اورہندوستان کس ڈیلی گیشن کو ڈیپوٹ کرتا ہے اسی کو جو مسئلےکی رگ رگ کو جانتے ہیں ، اس کے جڑوں کو جانتے ہیں اور  کسی بھی سوال کو  وہ بہترین طریقے سے سفارتی انداز میں  جواب دیتے ہیں ۔مگر اس کے برعکس  جو پاکستانی وفود جاتے ہیں ان کو خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ موضوع کیا ہے مگر یہ   ہمیں  یو این جانے کا موقعہ مل رہا ہے وغیرہ ۔

 میں نے پچھلے ایک پروگرام میں بھی  کہاتھاکہ   پاکستان سے مربوط مسائل  کو اڈریس کرنے کیلئے دو زوایوں کا ہمیشہ ساتھ لینا پڑےگا ایک پولیٹکل اسٹیبلشمنٹ  جو کہ  الگ ہے اور دوسری  ملٹری اسٹیبلشمنٹ جو کہ الگ ہے۔ تو وہاں پر یہ  جو لپا چھپی کا  کھیل کھیلا جارہا ہے وہ اسی سیاست اورملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پکنے والی کھچڑی کا نتیجہ ہے جس حضرت  کی آپ بات کررہے ہیں ان کا کردار بھی اسی حقیقت کی کڑی ہے ۔ اگر یہ سیاسی  حضرات کے ہاتھ میں ہوتا  مسئلہ کشمیر حل ہوتا یا اگر صرف ملٹری کےہاتھ میں ہوتا  تو مسئلہ حل ہوا ہوتا۔ کیونکہ  یہ مکسچر آلریڈ ی موجود ہے نتیجہ یہی کچھ ہے ۔ افغانستان کو لیکر بھی ایسا ہی ہے باقی مسائل کو لے کے بھی تو اس کچھڑی کا نتیجہ ہے  کہ وہاں صحیح مسئلے کو اڈریس کرنے کیلئے  میکنازم  بنا نہیں ابتک ۔

سوال :مجاہدین  کشمیر جاکر کشمیر کے اندر  لڑرہے ہیں اسےاس کے جواب میں ہندوستانی فوج نے مظالم ڈھائے ہیں اس صورتحال سے کشمیریوں کا کتنا نقصان ہوا ؟

ج) میں پہلے خود  ایک عسکریت پسند تھا  اورمیں نے  1989 ء میں ہی   محسوس کیا کہ  عسکری راستہ غلط ہے۔ہمارے گھر میں چونکہ ہمیشہ انقلاب کی بات چلی رہی ہے اور  مجھے پتہ تھا کہ کشمیری تحریک بھی ایرانی انقلاب کی طرح ہے اور میں  سید علی اندرزگو کواپنا ہیرو سمجھتا تھا ۔ میں کشمیر میں  ایک اور سید علی اندرزگو بننا چاہتا تھا،وہ یہاں مشہد کے تھے ۔تو پھر جب مجھے آہستہ آہستہ سمجھ آیا کہ ایران کی تحریک اپنی تھی اور کشمیر کی تحریک دوسروں کی ہے تو میں نے 1989ء میں  ہی کہا کہ عسکریت تحریک  ہماری سب سے بڑی دشمن ہے ۔البتہ  جو تحریک میں شامل  مجاہد ہورہے ہیں میں ان کے جذبات  کو کروڑوں سلام پیش کرتا ہوں،  مگر جو ان کو استعمال کرتے ہیں میں ان کی بات کرتا ہوں۔ان کا  وہی ایجنڈا ہے  جو استعماری طاقتوں نے انہیں دیا  ہے جو امریکہ  اورجو اسرائیل کا ہے۔

  آپ ہم جوانوں کو کیوں  گمراہ  کرتے ہیں، اب تو میں بوڑھا ہوگیا ہوں  اب مجھے پتہ چل رہا ہے  کہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ان نوجوانی کے دنوں ہمیں پتہ نہیں تھا  کہ کون کس طرح استعمال کررہا ہے لیکن اب الحمداللہ  مطالعات کی وجہ سے پردہ اٹھ چکا ہے ، البتہ  میں نے ان ہی دنوں ایک اپنے تحریری بیان میں بھی اس کا تجزیہ پیش کیا تھا جو پھر  حقیقت ثابت ہوا ۔

 عسکریت تحریک آزادی کو کچلنے کا بہانہ دیتی ہے۔ ہندوستان کو مظالم ڈھانے کیلئے سب سے  بہترین ہتھیار یہی ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کیلئے عسکریت کا مقابلہ کررہے ہیں۔شاید اسی لئےعسکری  تحریک قائم ہوئی ہے۔  جب ہمارے پاس  نہ گولیاں ہونگی، نہ کلاشن کوف ہوگا ،تو ہندوستان  ہمارے پتھر مارنے پر کیا بہانہ  بنائےگا۔ جب ہم  ملٹری آپریشن کریں گے کیا  ہندوستانی فوج  ہاتھ پر ہاتھ درے بیٹھیں گے ۔ یہ عسکریت  مقدمہ ہے اس کا کہ کشمیر میں  یہ قتل خون کا بازار گرم رہے ۔

سوال: کشمیر میں جاری عسکریت سے فائدہ کس کو ،نقصان کس کو ہو رہا ہےاورکشمیریوں کو کیا ملا ؟

ج)فائدہ صرف اسرائیل کو  ہوا ہے ۔ ہندوستان کا اسرائیل کےساتھ اتنا مضبوط رشتہ ہوگیاگہ جو بارڈر پہ  سب سے پیشرفتہ فوجی سازوسامان سرحدوں پر کیاگیا سب اسرائیل  اس  پروجیکٹ  پر وہاں  کام کررہا ہے،کمائی کررہا ہے۔اسرائیل کیلئے ایسی فضا ملٹنسی نے قائم کی ہے۔ اگرملٹنسی نہیں ہوتی تو  اسرائیل کے طولعمر  کا سامان فراہم نہیں ہوتا اوراب 25 سال کے بعد آج   اسرائیل  ہندوستان کے کھڑا ہوکے کھل کے  سامنے نہیں آ سکتا تھا ہے  ۔

سوال )اس سے نقصان پاکستان کو بھی ہے ؟

ج) یقیناً ،بشرطیکہ پاکستان خود اس بات کو سمجھے کہ ہم کیا کررہے ہی۔ں جب ان کی  پالیسی  ہی غلط ہے نتیجہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے  میں نے 2000ء میں وہاں جاکے کہاتھاکہ آپ کی کشمیر پالیسی غلط ہے۔ اس کو ٹھیک کریں کوئی سنتا نہیں ۔

سوال : اسرائیل اور ہندوستان آپس میں مل گئے ہیں ایسے میں پھر  کشمیر کی تحریک آزادی کا فیوچر کا  ہوگا؟

ج) جب تک کشمیری عوام پاکستان کےنسبت جو جذباتی  چشمہ جو  لگائے ہوئے ہیں کو نہیں اُتاریں گے اور جب تک نہ پاکستانی عوام کشمیریوں کے  حقیقی خیر خواہ  نہیں بنیں گے اور جب تک نہ وہی بیان  جو 2008ء  میں ذرداری صحاحب نے صدر کی حیثیت سے کہاتھاکہ؛"  کشمیر کی تحریک ،کشمیریوں کی ہے" اور  پاکستان صرف ان کا ہمدرد   اور ان کے  ساتھ کھڑا ہے۔  جب تک نہ یہ عملی طورپر   کیا جائےگا تب تک  کشمیری عوام کا یہی حال رہےگا ۔

سوال : آپ یہ کہنا چاہتے ہیں جو پاکستان ملیٹنٹ کشمیر میں بیج رہا ہے  وہ بند کرنا چاہئے ؟

ج) جی سو فیصد ۔

والسلام علیکم ورحمت اللہ

 

 

 

تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی