پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

صہیونی حکومت اور حزب اللہ کی آنے والی جنگ کس نوعیت کی ہوگی ؟

 اردو مقالات

صہیونی حکومت اور حزب اللہ کی آنے والی جنگ کس نوعیت کی ہوگی ؟

صہیونی فوجی ماہرین کا جواب ؛

صہیونی حکومت اور حزب اللہ کی آنے والی جنگ کس نوعیت کی ہوگی ؟

نیوزنور:اسرائیلی فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ آنے والی جنگ بہت سخت اور تباہ کن ہو گی اور دونوں فریقوں کا اس جنگ میں بھاری نقصان ہو گا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کے امنیتی ۔فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کے ساتھ آیندہ ممکنہ جنگ میں حزب اللہ کی تحریک ہر روز ۱۵۰۰ سے ۲۰۰۰ راکٹ اور میزائل مقبوضہ سر زمین کی جانب داغے گی ۔

روزنامہ یروشلم پوسٹ نے ایک رپورٹ میں اس بارے میں تحقیق کرتے ہوئے کہ شمالی محاذ پر آنے والی جنگ کس نوعیت کی ہو گی فوجی حکمرانوں کے حوالے سے لکھا ہے : ایک چیز جو طے ہے وہ یہ ہے کہ لبنان کی تیسری جنگ سخت اور ڈراونی ہو گی جو ہزاروں انسانوں کی جان لے سکتی ہے ۔

اس مضمون کی ابتداء میں اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مقبوضہ فلسطین کی شمالی سرحد پر اس وقت سکون ہے ، آیا ہے : اسرائیلی حکام نے حالیہ ہفتوں میں ایران اور حزب اللہ کو اپنی دھمکیوںمیں اضافہ کر دیا ہے جس سے ۲ سوال پیدا ہوتے ہیں : کہ کیا اسرائیل لبنان کے ساتھ تیسری جنگ کے دہانے پر ہے ؟ اگر ہاں تو یہ جنگ کس نوعیت کی ہو گی ؟ البتہ یہ طے نہیں کہ یہ جنگ کتنی لمبی ہو گی اور کس فریق کی طرف سے شروع ہو گی ؟

صہیونی حکومت کے اندرونی سلامتی کے مطالعات کے مرکز کے ایک فوجی تجزیہ نگار اور فوج کے ریٹائرڈ جنرل گابی سیبونی کا کہنا ہے : اس طاقت کی مقدار جو آنے والی جنگ میں میدان میں جھونکی جائے گی وہ لبنان کی دوسری جنگ کے مشابہ نہیں ہو گی ۔ لبنان کے جنوب میں ۲۰۰ دیہات ہیں جو حزب اللہ کے ہتھیاروں کے انبار  کے طور پر کام کرتے ہیں ان تمام دیہاتوں اور ان میں فوجی ٹھکانوں پر حملہ ہو گا ۔

اسرائیل کے فوجی ماہرین تاکید کرتے ہیں کہ آنے والی ممکنہ جنگ کے پہلے گھنٹوںمیں حزب اللہ والے ہزاروں میزائل اور راکٹ مقبوضہ فلسطین پر داغیں گے ۔ اسرائیل بھی اپنے جنگی ہوائی جہازوں ؛ایف ، ۱۵ ، ایف ۱۶ اور ایف ۳۵ اور آپاچی نام کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حزب اللہ کی سایٹوں اور اس کے میزائیلی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا ۔

یروشلم کے فکری مرکز میں مشرق وسطی کے علاقے کی تبدیلیوں کے پروجیکٹ کے سربراہ جنرل یوسی کوپرواسر کا کہنا ہے : اسرائیل اپنے سارے میزائیل سسٹموں کو جیسے گنبد آہنی ، فلاخن داوود اور پیکان ۲ اور ۳ کو فعال کر دے گا ۔ شامی اور ایرانی میزائلوں کی اسرائیلی میزائلوں کے ساتھ یہ ایک جذاب جنگ ہو گی ۔

کوپرواسر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حزب اللہ کے پاس ہزاروں راکٹ اور میزائل موجود ہیں وضاحت کی کہ یہ راکٹ جنگ کی ابتدائی گھڑیوں میں ، اسرائیل کے شہروں ، دیہاتوں بجلی بنانے کے ٹھکانوں اور فوجی ٹھکانوں کی طرف چھوڑے جائیں گے ۔

صہیونی حکومت کے سیکیوریٹی کے تجزیہ نگاروں نے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ حزب اللہ کے پاس ایسا ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے جس میں ۱۳۰ ہزار سے ۱۵۰ ہزار تک راکٹ ، چھوٹی ، درمیانی اور لمبی دوری تک مار کرنے والے میزائل ، اور ان کے علاوہ ۵۰ ہزار مسلح فوجی ہیں ۔ ان کا اندازہ ہے کہ روزانہ ۱۵۰۰ سے ۲۰۰۰ تک راکٹ داغے جائیں گے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب سال ۲۰۰۶ میں لبنان کے ساتھ دوسری جنگ میں روزانہ ۱۳۰ سے ۱۸۰ تک راکٹ مقبوضہ سرزمینوں کی طرف چھوڑے جاتے تھے ۔

یروشلم پوسٹ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حزب اللہ کے پاس ۱۰۰ سے ۳۰۰ کیلومیٹر کی دوری تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں اسرائیل کے سابقہ داخلی سلامتی کے مشیر یعکوف عمید رور کے حوالے سے لکھا ہے : ہمیں ان کو تیزی سے نابود کرنا چاہیے ۔

ان ماہرین کا عقیدہ ہے کہ حزب اللہ آنے والی جنگ میں سرنگوں اور بغیر پائلٹ کے ہوائی جہازوں سے استفادہ کرتے ہوئے اسرائیل کو نشانہ بنائے گی ۔ اسی طرح یہ بھی کہ حزب اللہ کے ساتھ آنے والی جنگ صرف لبنان کی سرحد کے محاذوں پر نہیں ہو گی بلکہ بہت سارے جنگ جو شام اور غزہ سے اسرائیل پر حملہ کریں گے ۔

آویگڈور لیبر مین ،نے جو اس حکومت کا وزیر جنگ ہے اسرائیل کی داخلی سلامتی کے مطالعات کے مرکز کی سالانہ کانفرنس میں ایک تقریر کے دوران دھمکی دی : اگر اسرائیل کے شمال میں ایک اور جنگ ہوتی ہے تو ہمارا محاذ صرف لبنان نہیں ہو گا بلکہ شام بھی اس میں شامل ہو گا وہ سب ایک ہی محاذ ہیں ، شمالی محاذ پر نئی جنگ علاقے کے لیے بہت بری ثابت ہو گی ۔

صہیونی حکومت کی فوج اسی مہینے اپنی دو سالہ جنگی مشقیں کہ جن کا نام جونیپر کبری ہے امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف مکمل جنگ کا نقشہ پیش کرنے کے لیے کہ جس میں اسرائیل کو روزانہ ہزاروں میزائلوں کا نشانہ بنایا جائے گا ، کرنے والی ہے ۔

گذشتہ ہفتے بھی روس کی ایک اعلی سلامتی کی کمیٹی نے مقبوضہ فلسطین کا دورہ کیا تا کہ اسرائیل کی حکومت کو شام پر مزید حملے کرنے سے روکے ۔ صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ماسکو کے دورے اور ولادیمیر پوتین ، اس ملک کے صدر کے ساتھ ملاقات کے ایک دن بعداس کمیٹی نے اسرائیل کا دورہ کیا

 

تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی