پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

ولایت عھدی امام رضا علیہ السلام

 اردو مقالات کتابخانہ اھلبیت ع حضرت علی رضا علیہ السلام

ولایت عھدی امام رضا علیہ السلام

ولایت عھدی امام رضا علیہ السلام

آٹھویں امام حضرت امام رضا علیہ السلام اپنے والد گرامی حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی بغداد کے زندان میں  شھادت کے بعد سن 183 ھ ق میں امامت پر فائض ہوۓ ۔

آنحضرت اپنے دور امامت میں اٹھارہ سال مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھے اور اس دوران ھارون رشید اور اسکے دو بیٹوں امین اور مامون کی غاصبانہ خلافت کے بھی شاھد رہے اور سن 200 ھ ق کو مامون نے امام کو خراسان (ایران) آکر اسکی حکومت میں شریک ہونے کی دعوت دی ۔

جس طرح مامون عباسی سے نقل کیا جارہا ہے کہ اس نے نذر کی تھی کہ اگر اپنے بھائی امین کے ساتھ جنگ میں کامیاب ہوکر خلافت کو پہنچا تو حکومت آل ابیطالب (ع) کے افضل ترین شخص کے تحویل میں دے گا ۔(1)

جب سن 198 ھ ق کو اپنے بھائی پر غالب آیا اور بغداد کو فتح کر کے عالم اسلام پر حاکم ہوا تو اس نے چاہا اپنے نذر کا وفا کرے اور اس ضمن میں امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کو آل ابی طالب (ع) میں سے افضل ترجانا ۔ وہ کہتا تھا کہ: ما اعلم احدا افضل من ھذا الرّجل علی وجہ الارض؛ میں روی زمین پر اس شخص (امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام) سے بڑ کر کسی کو بہتر اور با فضیلت نہیں جانتا۔(2

اس طرح اس نے اپنے سرداروں میں سے » رجاء بن ابی ضحاک » نامی سردار کو عیسی جلودی کے ساتھ مدینہ روانہ کیا تاکہ امام رضا علیہ السلام کو خراسان آنے کا دعوت دیں ۔(3)

امام رضا علیہ السلام چونکہ بنی عباسی خلیفوں کی مکر و فریب سے بخوبی واقف تھے اس لۓ دعوت قبول کرنے سے اجتناب کیااور «مرو » ( مامون کا دار الخلافہ)  جانے سے مدینہ میں رہنے کو ہی ترجیح دی۔

مگر مامون کے اسرار کے سامنے کچھ نہ چلی اور ناچار دعوت کو قبول کیا ۔ آنحضرت نے اپنے جدرسول خدا(ص) اور جنت البقیع میں اپنے بزگوں کی قبروں خاصکر والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زھرا (س) کی قبر کو الودا کیا اور اپنے چھوٹے فرزند حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنا جانشین قرار دےکر مامون کے کارندوں اور اپنے چند دوستوں اور علویوں کے ھمراہ خراسان کی طرف روانہ ہوے ۔

جب امام رضا علیہ السلام » مرو » پہنچے تو لوگوں کی طرف سے از جملہ فقھا ۔ دانشمندوں ، شاعروں ۔ درباریوں اور خود مامون کی طرف سے بے نظیر اور والہانہ استقبال ہوا ۔

مامون نےاستقبال اور خاطر داری کے بعد امام رضا علیہ السلام سے کہا : میں خلافت سے کنار ہوکے خلافت کو آپ کے سپرد کرنا چاہتا ہوں، کیا آپ اس کو قبول کر لیں گے ؟

امام رضا علیہ السلام نے انکار کیا ۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ جھوٹ کہتا ہے عملا ایسا کرنا نہیں چاہتا بلکہ اس طرح امام کو آزمامانا چاہتا تھا اور اگر حکومت کو امام (ع) کے حوالے کر بھی لیتا کچھ مدت بعد ان کو حکومت سے برکنار کرلیتا اور خود دوبارہ حکومت کو ہاتھ میں لے کر اپنی غاصب حکومت کو جائز بنادیتا ۔اور دوسری طرف علوی اور غیر علویوں کی طرف سے جہان اسلام میں جو  بغاوت کی لہر دوڑ رہی تھی ، اسکو خاموش کرانے کیلۓ امام رضا علیہ السلام کاسہارا لینا اس کیلۓ ناگزیر تھاتاکہ انہیں عباسی خلافت کو قبول کروالے زیر کے سکے ۔

امام رضا علیہ السلام چونکہ اسکی اصلی نیت سے با خبر تھے اس لۓ کسی بھی صورت میں خلافت کو قبول نہیں کیا ۔ مامون نے پھر ایک بار ولی عھدی قبول کرنے کی دعوت دی لیکن امام (ع) نے قبول نہیں کیا ۔ مگر اس بار مامون نے امام رضا(ع) کا استنکاف قبول نہیں کیا اور کہا کہ ولی عھدی قبول کرنا زبردستی اور حتمی ہے اس سے راہ فرار نہیں ہے ۔ آخر کار امام رضا علیہ السلام کیلۓ ولی عھدی کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہا ۔ آنحضرت نے حکومت میں شریک نہ رہنے کیلۓ عوام سے اپنے لۓ بیعت حاصل کی ۔ اسکے بعد عباسیوں کے کالے کپڑے سبزرنگ میں جوکہ علویوں کا رنگ ہے تبدیل ہوگیا  ۔ عباسیوں کے کالے رنگ کے  جھنڈے علوی سبز رنگ میں تبدیل ہوگۓ۔ آنحضرت کے نام کا سکہ جاری ہوا اور خطبوں میں انکی   تجلیل اور تکریم ہونے لگی ۔

اس دن کے تاریخ کے بارے میں تمام مورخوں کا اتفاق ہے کہ یہ واقع ماہ مبارک رمضان سن 201 ھ ق میں واقع ہوا ہے ۔ البتہ دن کے بارے میں اختلاف ہے ۔ بعض نے پہلی، بعض نے دوسری ، بعض نے چوتھی ، بعض نے چھٹی ، اور بعض نے ساتویں رمضان بیان کیا ہے ۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آنحضرت کے ہاتھ پر بعت کرنے کا سلسلہ کئ دن تک جاری رہا اور لگتا ہے کہ آنحضرت نے پہلی رمضان کو ولی عھدی قبول کی اور بعت کا سلسلہ چھٹی یاساتویں رمضان تک جاری رہا ہے ۔(4)

مدارک اور ماخذ:

1- الارشاد (شیخ مفید)، ص 602

2- الارشاد (شیخ مفید)، ص 602

3- تاریخ الیعقوبی، ج2، ص 449؛ الارشاد، ص 600؛ وقایع الایام (شیخ عباس قمی)، ص 24

4- نک: الارشاد، ص 600؛ زندگانی چہاردہ معصوم(ع) (ترجمہ اعلام الوری)، ص 445؛ منتہی الآمال (شیخ عباس قمی)، ج2، ص 282؛ وقایع الایام، ص 24؛ کشف الغمہ (علی بن عیسی اربلی)، ج3، ص 101و ص 172؛ تاریخ الیعقوبی، ج2، ص 448؛ الاقبال بالاعمال الحسنہ (سید بن طاووس)، ج1، ص 264؛ رمضان در تاریخ (لطف اللہ صافی گلپایگانی)، ص 11

       

تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی