پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

محمّد (ص) بشر، که جس کے جیسا کوئی بشر نہیں

 اردو مقالات کتابخانہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

محمّد (ص) بشر، که جس کے جیسا کوئی بشر نہیں

محمّد (ص) بشر، که جس کے جیسا کوئی بشر نہیں

باسمہ تعالی

السلام علیک یا رسول اللہ و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

میلاد رحمۃ للعالمین مبارک

 

آنحضور(ص) کے دربار میں عبدالحسین کی 2010 میں حاضری کے وقت کی یادگار تصویر

 

کائنات کا ذرہ ذرہ منظم طریقے کے ساتھ اپنے مقاصد کو پورا کرنے میں رواں دواں نظر آتا ہے بجز انسان کے!۔ تحقیقی طوریہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کائنات کے ہرموجود میں  کمال کے منازل طے کرنے میں بذات خود کوئی نقص نظر نہیں آتا ہے اگر کبھی کوئی نقص پیش بھی آئے اس کے لئے  خارجی عوامل کا عمل دخل ہوتا ہے ذاتا اس میں کوئی عیب درکار نہیں ہوتا ہے  وہ سبھی کمال کی راہ کو طے کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ایک معمولی بیج کو لیں وہ اپنا پھل دے کر اپنے کمال کو حاصل کرتا ہے ۔ ایک میوے کا پیڑ ،میوہ دے کر اپنا کمال ظاہر کرتا ہے ۔ سورج، چاند  اور ستارے اپنے اپنے محور میں گھومنے سے اپنے کمال کی منزلوں کو طے کرتے رہتے ہیں۔ یا یوں کہا جائے کہ انسان کو چھوڑ کر دنیا میں جو بھی خلقت ہے انکا ارتقائی مقصد معلوم اور حکیمانہ طور پر ھدایت ہوتا ہے اس لئے ان میں کسی قسم کی خطا نہیں پائی جاتی ہے ۔  البتہ انسان کو جائز الخطا کہا گیا ہے یعنی اس کا مسئلہ سب سے زیادہ حساس ہے۔خالق کائنات نے قرآن میں جس ادبیات کو استعمال میں لایا ہے وہ اس معمومہ کی طرف بخوبی اشارہ کرتا ہے۔

 

انسان کو مقام انسانیت پر پہنچنے کے لئے جدوجہد کرنے سے اصطلاحی انسان سے حقیقی انسان کا مقام حاصل ہوتا  ہے ، ہاتھ پاؤں ، اور بول چال سے انسان ، حقیقی انسان نہیں ہوتا{نجم/39} ۔یعنی انسان اپنی استعدادوں کو استعمال میں لانے سے انسان کہلایے گا۔ شاگرد بن کے سیکھتے سمجھتے ہوئے آگے بڑ ے تو انسان ہے لیکن اگر شاگردی اختیار نہیں کی تو حیوان ہے بلکہ اس سے بھی پس تر ہے{اعراف/179}۔ انسان کوجہاں اشرف المخلوقات کہا گہا ہے وہاں ضعیف مخلوق بھی عنوان ہوا ہے{نساء/28}۔ایک طرف خالق کائنات نے اسے اپنا جانشین کہا ہے{بقرہ/30} اور دوسری طرف جانوروں سے پسماندہ بتایا گیاہے{اعراف/179} ۔لیکن تمام مخلوقات میں سے صرف بہترین خلقت انسان کو کہا گیا ہے{تین/4} ۔ معلوم ہوتا ہے کہ انسان میں کو ئی خاص بات ضرور  ہے کہ جس کے لئے خدا نے کئ رمز و رموز کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا ہے اور پچاس سے زائد صفات یا خطابات سے یاد کیا ہے۔

 

قرآن میں خالق کائنات نے انسان کو خطاب کرکے کہا ہے کہ سب تمہارے لئے خلق کیا ہے {بقرہ/29}۔تمہارے لئے ، تمہارے لئے (لکم/لکم)کے جملات چار سو سے زائد مرتبہ قرآن میں استعمال میں آئے ہیں ۔اور  صرف ایک مرتبہ اپنے لئے(لیعبدون) کا جملہ بیان کرکے ساری خلقت کو اپنے لئے خلق کرنے کا اعلان کیا ہے۔{ذاریات/56}۔معلوم ہوتا ہے خالق کائنات خدای واحد نے انسان کے لئے ایک عظیم مقام رکھا ہے جو صرف خدا کے منتخب استادوں جنہیں انبیاء الہی کہا جاتا ہے کی تعلیمات پر چل کر ہی حاصل کیا جاتا ہے ۔اور اس خاص بات کا معجون مقام قرب کو پانے میں ہے{اسراء/57}۔دوسرے الفاظوں میں یوں کہیں کہ انسان کا دوسرے مخلوقات پر برتری کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ انسان ایسے جوہر سے بنا ہے جس  جوہر سے پیغمبر آخرالزماں(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو  بنا کر بھیجا گیا ہے ۔

 

البتہ جہاں خود عام انسان اور بشر کو سمجھنے کے لئے سینکڑوں پیچیدگیوں  کا سامنا ہو اور اسے موجود ناشناختہ کہا جائے، وہاں انسان کے الہی استادوں کے آخری استاد حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں انسان کا  موازنہ عقل شعور کے فقدان کا ثبوت  ہو گا۔ اگرچہ خدای سبحان نے یہ کہہ کر اپنے محبوب سے خطاب کرکے فرمایا: کہدو میں تم ہی جیسا انسان ہوں{کہف/110اور صف/6}یقینا یہ جملہ ایک طرف انسان کے شرف کا سب سے عظیم مقام ہے  کہ عام انسان اور پیغمبر آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا گیا ہے ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان صفر سے کہاں تک کی سیر کر سکتا ہے ۔  لیکن عام انسان اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک صف میں کھڑا کرکے شاگرد اور استاد کا مقام الگ کیا ہے جہاں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ کہدو میں تم ہی جیسا انسان ہوں {کہف/110اور صف/6}،و ہی «یوحی الی»مگر مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔{کہف/110اور صف/6}۔کہہ کر خدای سبحان نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باقی انسانوں سے جدا کردیا ہے ۔

 

انسان کو غلطیوں کا پتلا  کہا جانا یا ہیومن ایرر  کی   اصطلاح  کا رائج ہونا انسان کی اصلاح کی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک انسان کو بے عیب اور نقص بننے کے لئے، کمال کی منزل طے کرنے کے لئے ایک  استاد ،ایک انسان کامل کی رہنمائی کی ضرورت ہے ۔اور وہ رہنمائی تبھی مکمل ہو سکتی ہے جب اپنے خالق کے منتخب استاد کے ذریعہ حاصل کی  جائے ۔ جنہیں انبیاء کہتے ہیں ۔جس  ذات اقدس کے بارے میں ہم گفتگو کررہے ہیں ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ خدای سبحان نے انہیں بشر عنوان کرکے بشر کے لئے الہی استاد ہونے کا تعارف دیا ہے ۔ اس لئے قرآنی ادبیات کے اعتبار سے پہلے دیکھتے ہیں کہ کیا انبیاء علیہم السلام کے درمیاں ایک کم ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں(علیہم السلام) کے درمیاں پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موازنہ کیا جاسکتا ہے تاکہ بعد میں عام انسانوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بشر ہونے کے اعتبار سے موازنہ کرنے میں قضاوت کر نے میں آسانی ہو سکے  ۔خالق کائنات نے اپنی کتاب میں بشر کے پہلے استاد اور الہی پیغمبر  ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کو «یا آدم{بقرہ/33/35،اعراف/19،طہ/117،120}» کہہ کر  مخاطب ہو رہا ہے۔ یا آدم ثانی  حضرت نوح علیہ السلام کو «یا نوح«{ھود/32،46،48،شعراء/116}کہہ کر مخاطب ہورہا ہے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو «یا ابراھیم»{ھود/76،مریم/46}کہہ کر مخاطب ہو رہا ہے ۔لیکن ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا احمد ، یا محمد کہہ کر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مخاطب نہیں ہو رہا ہے بلکہ «یا ایہاالنبی«{الانفال/64و65و70،توبہ/73، احذاب/1،28،45،50،59،ممتحنہ/12،طلاق،1،تحریم/1و9}«یا ایہا الرسول»{مائدہ/41و67}۔کہہ کر مخاطب ہو رہا ہے ۔ یا پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلق عظیم{قلم/4} کا پیکر بتایا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ باقی انبیاء علیہم السلام نعوذ باللہ بد اخلاق تھے۔بلکہ ایک کم ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کے لئے بھی اخلاق کا عظیم مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے ۔انبیاء علیہم السلام کے درمیاں ایک کم ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے کسی ایک نبی نے آسمان کی سیر کرکے واپس زمین پر نہیں لوٹے ہیں ۔البتہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اٹھا گیا ہے{نساء/158} ابھی تک ان  کی واپسی نہیں ہوئی ہے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو  آسمانوں کی سیر{اسراء/1} کراکے واپس زمین پر لایا گیاہے ۔خدا نے انبیاء علیہم السلام کو سلام بھیجا ہے{صافات/79و109و120و130و181}لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام و درود بھیجنے میں ہر وقت مصروف ہیں اور ان کے ملائکہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام و درود بھیجنے میں مصروف ہیں اس کے علاوہ مؤمنین کو بھی آنحصرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ودرود بھیجنے کی دعوت دیتے ہیں{احذاب/56} ۔ (الھم صلی علی محمد وآلہ محمد و عجل فرجھم)۔ خدای سبحان نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام و درود بھیجنے کے لئے فعل مضارع»یصلون» کا استعمال کیا ہے ۔ جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی انبیاء علیہم السلام پر برتری  ظاہر ہونے کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود مقدس باقی انبیاء علیہم السلام کے برخلاف ہر زمانے کے لئے ہے ۔اور خدای سبحان نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ کسی زمانے کے لئے محدود رکھا ہے نہ کسی فرقے کے لئے مخصوص بلکہ تمام عالمین کے لئے رحمت{انبیاء/107} اور تمام انسانوں کے لئے ھادی بنا کے بھیجا ہے{ابراھیم/1} ۔ خدای سبحان اپنے نبی حضرت موسی کو اپنے قوم کو جہالت اور گمراہی سے نجات دلانے کا حکم دیتا ہے{ابراھیم/5}۔ ابھی نکالنے کا حکم دے کر «اخرج»کہہ کر ،زمانے کی محدودیت کو بھی ظاہر کرتا ہے لیکن اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو  انسانوں کو گمراہی سے ھدایت کی طرف نکالتے رہنے کا ارشاد فرماتا ہے {ابراھیم/1}۔یہاں پر «لتخرج»کہہ کر خدای سبحان اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زمانے کی محدودیت کو ختم کرتا ہے ۔جس طرح درود و سلام بھیجنے میں زمانے کی قیدکو ہٹاتا ہے اسی طرح نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ھدایت کو زمانے اور امتوں کی قید سے برتر ظاہر کرتا ہے۔ہر زمانے میں ہر انسان کے لئے ھدایت کا سرچشمہ بتاتا ہے ۔کیا ایسا نبی بشر کے ساتھ قابل قیاس ہے؟ ۔بلکل نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایک کم ایک لاکھ چوبیس ھزار  انبیاء علیہم السلام کے درمیاں ممتاز ہیں تو بشر کے ساتھ قابل قیاس کہاں ۔ وہابیوں کا آنحضرت کی ذات اقدس کو محدود کرنے اور صرف خدا سے مانگنے کی دلفریف رٹ لگا کر آنحضرت سے متوسل ہونے کو شرک کہہ کر عالمین کے لئے رحمت اور ہمیشہ انسانوں کے لئے ھادی کو انسان دشمن اور عالمین کا دشمن ثابت کررہے ہیں۔حرمین شریفین کے مجاور بن کر آئین نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کوانسان کے لئے امن اور ترقی کا ضامن ثابت کرنے کے بجائے دہشتگردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ۔عالم اسلام میں بالعموم اور عراق ، افغانستان اور پاکستان میں بالخصوص مسلمانوں کا قتل و خون کرنے سے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں،صرف اپنے آپ کو مسلمان اور دوسروں کو کافر اور مشرک کہہ کر اسلام دشمن طاقتوں کے منصوبوں کی تکمیل کررہے ہیں ۔ جبکہ اسلام وہابیوں کا دین نہیں ہے بلکہ تمام ادیان اور تمام انسانوں کا دین ہے جسے عملی طور ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔

 

خدای سبحان کا اپنے پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بشر عنوان کرنا بشر کو رشد کی طرف ھدایت کرنے کا  واضح رہنما اصول ہے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بھی بشر کے ساتھ کیا دوسرے انبیا علیہم السلام کے ساتھ قابل قیاس نہیں ہیں۔  انسان میں کمال کا  راستہ انتخاب کرنے کے لئے خدای سبحان نے ارشاد فرمایا ہے کہ آپ کے لئے رسول خدا کی زندگی اسوہ حسنہ ہے {احذاب/21}۔یہ نہیں کہا کہ رسول خدا آپ کے لئے اسوہ حسنہ ہیں»فی «کو استعمال میں لا کر رشد اور کمال کا راستہ طے کرنے کی امید زندہ رکھی ہے ۔ اگر فی کا لفظ استعمال میں نہ آیا ہوتا جس کا معنی رسول خدا اسوہ حسنہ ہیں ہوتا، تو معلوم ہوتا ہے کہ خدای سبحان نے رشد اور کمال کے راستے انسان کے لئے بند کئے ہیں کیونکہ جہاں انبیاء پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کو نہیں پہنچ سکتے ہیں تو عام انسان اور بشر کی کیا مجال ہے ۔خدای سبحان نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اسوہ حسنہ ڈھونڈ کر رشد اور کمال کا راستہ انتخاب کرنے کو کہا ہے ان کے جیسا بننے  کو نہیں کہا ہے جو کہ کوئی بھی نہیں بن سکتا۔ ایسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود اقدس کس قدر مبارک ہے  اور میلاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی بڑی عید ہے  اسکا جشن منانا کسقدر عبادت ہے اندازہ لگایا جا سکتا ہے جبکہ وہابی اسے بھی شرک کہتے ہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے خدای سبحان سے درخواست کی کہ آسمان سے مائدہ بھیج دے تاکہ ہمارے لئے عید ہو {مائدہ/114}۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمانی مائدہ اترنے پر جشن اور عید منانا شرک نہیں ہے تو بلا آسمان سے تمام عالمین کے لئے رحمت کا ظہور پر جشن و سرور کی محفلوں کا انعقاد کیسا شرک ہے!۔

 

خدای سبحان کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہوں کہ بشر کو بالعموم اور مسلمان کو بالخصوص رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی زندگی کو سمجھنے اور اسکے اسوہ حسنہ کو اپنانے کو توفیق عطا فرمائے تاکہ رحمۃ للعالمین کی تعلیمات کے سایے میں سارا عالم امن ، سکون اور رحمت کا محور بن جائے ۔اور آنحضرت کے آخری جانشین بقیۃ اللہ {ھود/86}کے ظہور میں تعجیل فرما کر ہمیں آپ کے یار و مددگاروں میں محشور فرمائیں ۔(آمین)

 

عبدالحسین

 

‏جمعه‏، 11‏ ربیع الاول‏، 1431

تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی