پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

تمام تر انسانی مشکلات کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہے، کیوں؟

 مکالمات سیاسی

تمام تر انسانی مشکلات کا ذمہ دار امریکہ  اور اسرائیل ہے، کیوں؟

 ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی کی ہدایت ٹی وی کے ساتھ گفتگو:

تمام تر انسانی مشکلات کا ذمہ دار امریکہ  اور اسرائیل ہے، کیوں؟

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کےمطابق لندن میں دائرہدایت ٹی وی کے "آج ہدایت کے ساتھ" پروگرام کے عالمی منظر  میں میزبان سید علی مصطفی موسوی نے بین الاقوامی تجزیہ نگار اور نیوزنور کےبانی چیف ایڈیٹر حجت الاسلام حاج سید عبدالحسین موسوی[قلمی نام ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی] سےآنلاین مکالمے کے دوران " مشکلات کا ذمہ دارکون " کے عنوان کے تحت لئے گئے انٹرویو کو مندرجہ ذیل قارئین کے نذر کیا جا رہا ہے:

سوال: کیا مسلمانوں کے تمام تر مشکلات کا ذمہ دار ہم خود ہیں یا کوئی اور ہے   ؟

ج) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمین‏ ۔ اللَّهُمَّ ‌و‌ أَنْطِقْنِی بِالْهُدَى ، ‌و‌ أَلْهِمْنِی التَّقْوَى ، ‌و‌ وَفِّقْنِی لِلَّتِی هِیَ أَزْکَى۔

حق و باطل کی جنگ  ہمیشہ سے رہی ہے  صرف عنوان  بدلتے رہے ہیں اسطرح یہ کارکردگی اول سے  حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر یہاں تک  چلتا آیاہے ۔انبیاء علیہم السلام ، ائمہ ھدی علیہم السلام اسی کا مقابلہ کرنے کیلئے مبعوث و منصوب ہوئے ہیں۔  ایک  الہی  اوردوسری شیطانی   قوت ہے اوراسی شیطانی قوت کا نام ہر زمانے میں بدلتا رہا ہے اورانسانیت کے ارتقاء کیلئے  اورانسانی اقدار کی صحیح تصویر حاکم بنانے کیلئے  اللہ نے  ایک  ایسا نمونہ بھیجا کہ جو ہر اعتبار سے تمام نقائص سے پاک اور معصوم ہے  وہ  ذات مقدس  پیغمبر اکرم آخر زمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ انہوں نے انسانی اقدار کہ جس کا دوسرا نام  اسلام ہے کو عملی طور پر پیش کیا ہے۔

 بدقسمتی سے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بعد جو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کوپیٹ دکھائی کہ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے،  جہاں پر صراحت کے ساتھ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی تھی وہاں پر خود اجتہاد کرنے بیٹھے  جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخرکار شیطان کیلئے  جگہ بن گئی.  جنہیں کھبی خود آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہی منافق کے عنوان سے  اللہ نے متعارف کرایا تھا پھر ان ہی  کا غلبہ رہا  وہی شیطانی منصوبوں  کے  خاکوں کو رنگ بھرتے آئے ہیں۔

 یہ کہ مسلمان  کس حد تک اپنے مشکلات کیلئے خود   مقصر ہے یا  کوئی اور ہے، اس کے کئی زوایہ ہیں۔ایک زاویہ یہ ہے کہ ہاں بالکل خود ہی اس کے لئے ذمہ دار ہیں۔ اگر خود شیطان کے  لئے میدان فراہم  نہیں کرتے اس حالت میں گرفتار نہیں ہوتے۔ شیطان شیطان ہے کیونکہ قیامت کا منظر  بھی ایسا ہی ہوگا شیطان کہے گا کہ  مجھے نہیں کوسو ، اللہ نے بھی تمہیں دعوت دی  ،میں نے بھی دیا۔ آپ نے  اللہ کی  دعوت کو ٹھکرایااورمیری دعوت کو لبیک  کہا ،اس  میں تھوڑی میں ہی مقصر ہوں ۔اور حقیقت یہی ہے کہ اکثریت ایسے ہی لوگوں کی دعوت پر  لبی کہا ہے ۔

سوال : یہ جوشیطان بزرگ  کی  ڈاکٹرین ہے اسے کون پروان چڑھا رہے ہیں؟

ج)جس طرح ہمیں مقدس کتاب قرآن کریم  اس بات کی نشاندہی کررہا ہے اور جس نے اس حوالے سے  پہل کی اورانسانی اقدار کی بالادستی کو روکنے کیلئے   انتھک کوشش کی وہ ابوسفیان تھے  اوروہی سلسلہ  استعمار  اور استکبار کا مجسمہ  تھا انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر منصوبے کو  توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی  اورجب اسلام  غالب آگیا آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھل کے عظمت اسلام کا جو مظاہرہ  پیش کیا تو وہاں پر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے  اس سب سے خطرناک دشمن  کو پناہ گاہ قرار دیا اور فرمایا کہ؛ جو ابوسفیان  کی گھر میں پناہ لےگا اس کو  پناہ ملے گی۔ تو وہاں پتہ چلا کہ جو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلق عظیم کا  مظاہرہ تھا اسی کو ڈھال بنایا اس ابوسفیان نے  مسلمانوں کا  لباس تو پہنا لیکن پھر بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی  برقراررکھی۔تاریخ اس بات کی گواہ  ہے  کہ بنی امیہ سلسلے کی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسلام سے جو پہلے سے دشمنی تھی، انہوں نے اسلام کا لباس  پہن کر بھی وہی دشمنی جاری رکھی جو ابھی تک اپنے دم خم کے ساتھ قائم ودائم ہے۔ وہ دشمنی وہی شیطانی  دشمنی ہے جو رحمانیت کے ساتھ شیطانیت کی ہے  اوریہ جنگ ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اورہمیشہ چلتی رہی گی اب دیکھنا  ہے کہ کون کس بات کیلئے مقصر ہے  اور کون کس بات کیلئےذمہ دار کون ہے ۔

ترکی کا شام میں فوجی آپریشن

سوال :  ذمہ داری کس  کی، مسلمانوں  کی مشکلات کا ذمہ دار کون ہے کو لے کر ترکی کی بات کرتے ہیں کہ شام میں داخل ہوکر ترکی  کو ن سی ذمہ داری نبھانا چاہتا ہے؟

 

،کیا  ہمار ا کتنا حصہ ہے  کیا اتنی بڑی فوج رکھنے والا ترکی جو  پوری دنیا کے اندر   اپنے  آپ کو مسلمانوں کا ایک ایمپائر بتانا چاہتا ہے تمام کرم جو ہے وہ آل سعود  کو رپلیس کرکے  خود آنا چاہتا ہے سلطنت عثمانیہ  کو دوبارہ سے کھڑا کرنا چاہتا ہے تو اس نے  القدس کے معاملے پر ایسے حملے کی کوئی صورت دکھائی نہیں شام میں وہ کرد وں کےاوپر حملہ کردیا 18 شہر مارے جاچکے ہیں  ان کا کہنا ہے کہ ہم نے شہر وں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا  یہ کونسی جنگ ہے اس میں  پھولوں کی بارش ہورہی ہے  یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی ہے ؟

ج)اگر میں اس کا پہلےنتیجہ بتاونگا پھر بات شروع کرتا ہوں،نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل  کی جنگ لڑی جارہی ہے ۔ اسرائیل کو بچانے کیلئے یہ گیم پلان  کا حصہ ہے۔

اب  اس گیم میں  دیکھنا ہے کہ کیا ترکی اب  اس کا   سکہ یعنی مہرہ بن کے سامنے آیا   ہے ۔جبکہ وہ ایک طرف دعویٰ کرتی ہے  کہ جناب  دہشتگردوں کو پنپنے نہیں دیں گے،  امریکہ دہشتگردی کو  بڑھاوا دے رہا ہے اورہم دہشتگردی کو   پنپنے نہیں دیں گے  یعنی  ہم داعش کے خلاف ہیں  خود پی کے کے اس حوالے سے کہتے ہیں  کہ دنیا  کو تو پتہ ہے کہ داعش تو ختم ہوگئی  یہاں تو داعش کے خلاف  نہیں لڑرہے ہیں۔

 اوردوسری طرف شام یہ کہہ رہا ہے کہ  یہ دہشتگردوں کو  ایک آسان راستہ  دکھانے کی کوشش ہے۔

 اورتیسرا زاویہ  یہ ہے کہ جو شام میں ترکی نے سات سال سےبہت ہی زبردست سرمایہ کی،  اینوسمنٹ کی، ہر محاذ پہ اینوسمنٹ کی مگر  ہر محاذ پہ  کوئی  کامیابی حاصل  نہیں ہوئی۔ اب  جبکہ شام میں داعش   دہشتگردوں  کا خاتمہ ہوا جارہا ہے تو یہ اپنا حصہ ڈھونڈنے کی کوشش کرے  گا کہ جی  نہیں میرا بھی اس میں کردار رہا ہے۔یہ تو ایک  پہلو ہے شام  میں ترکی کے  کردار کا۔

چوتھا  یہ ہے کہ اس میں  جواصل گیم پلان ہے وہ اسرائیل کو بچانے کا ہے۔

آپ نے کہاکہ ترکی امریکی اتحادی ہے ،میں اس بات کی اصلاح کرنا چاہوں گا  بظاہر حال  میں وہ  امریکہ کا اتحادی نہیں   بلکہ وہ  اس سے ٹکر  لے رہا ہے ۔کیونکہ  اس کے کچھ مسائل اور وجوہات ہیں  از جملہ یہ کہ امریکہ نے حال ہی میں  ترکی میں  جو ناکام بغاوت کرائی  اور  امریکہ کو  اس میں کوئی فائدہ نہیں  ہو ا اور ردغان صاحب  اس  بغاوت کو ٹیکل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔  تب سے دونوں ممالک کے درمیان ٹھن  گئی ہے۔ حتیٰ ایک دوسرے کے ملک میں سفر کرنے پہ پابندی لگائی ہے۔ ابھی ٹھن چکی ہے اور  اس حوالے سے  ترکی نیٹو کےساتھ  اپنی رقابت کو ....۔

سوال :اگر ترکی کی امریکہ کے ساتھ ٹھن گئی تو اسرائیل کی نوکر کیوں بنے ہوئے ہیں کیا وجہ ہے ؟

ج) خطے میں جنگ غیر شعوری طورپر  اسرائیل کی جنگ لڑی جارہی ہے۔یہ سب اسرائیل کے مفاد میں جارہے ہیں۔  اسرائیل کا مفاد پہلے سے جو گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا رہا ہےاس میں  فلسطین سے لیکر ایران ،عراق ،شام ، ترکی وغیرہ کو توڑنا ہے یہ ان کا گیم پلان ہے ۔جب ہی یہ ممالک ٹوٹیں گیں تبھی گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔  اس حوالے سے  اگر یہ ممالک ٹوٹتے ہیں اسی امریکن ایجنڈے کو فائدہ  پہنچتا ہے، اسرائیل کو پہنچتا ہے۔اگر یہ ممالک ٹوٹ جائیں تو اسرائیل کا فائدہ ہے۔ مگر ابھی جو  ترکی  اپنی جنگ لڑرہا ہے  یہ ممکن ہے کہ جسطرح آپ نے بھی بہت صحیح اشارہ کیا،ہاں ترکی کیلئے یہ بہت بڑا جوا ہے اوریہ بہت بڑے جنگ کا  پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔یااس میں ترکی اپنے مفادات کو حاصل کرسکتا ہے یا برُی طرح  پٹ سکتا ہے۔

  ابھی حقیقت میں اردغان صاحب  اپنی جنگ لڑ رہا ہے۔ اگر چہ اس نے ابھی تک بہت سارے کارڈ کھیلیں ہیں۔ ابھی نیا  کھیل کھیل رہاہے  کیونکہ سات سال جو کارڈ اس نے شام میں کھیلے  ہیں ان سبوں کا صفرنتیجہ رہا ہے ۔اب  اردوغان صاحب یہ نہیں چاہتا ہے کہ تاریخ میں  ایک ناکام بادشاہ کے نام سے  یا د کیا جائے ۔اس لئے  یہ ہیرو بننے کی کوشش کررہا ہے  کہ کوئی رول کرے۔ مگر اس بیچ جو ابھی ایران نے بھی  ترکی کو یہ کہاکہ  آپ ہمسایوں کی جغرافیائی سالمیت  کا احترام کریں۔روس کا بھی یہی موقف ہے۔  باقی دنیا بھی یہی کہہ رہی ہے کہ اجازت کے بغیر دوسرے ملک میں غیر قانونی آپریشن کیا ہے ۔

ترکی یا تو اس کو مجبوراً  پوری اہداف کو لیکر جن  کو شام کی حکومت  نے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا

 اگر ترکی اپنا رنگ بدل کے اسرائیل کے خلاف کہ جس طرح ابھی اس نے کچھ  بیانات دیے ہیں ان  کو عملی طورپر نافذ کرتا ہے تو بڑی تبدیلی ہے، کیونکہ  کردوں کو  ایکطرف امریکہ  نے بڑے کھل کے  میدان میں لایا ہے اور ان کی  ہر قسم پر مدد کررہا  ہے اور ایسے میں  ترکی بظاہر  یہ کہہ رہا ہے کہ میں  ان ہی کے خلاف لڑ رہاہوں۔ اگر ایسے میں ترکی  ان کے خلاف لڑنے میں یعنی   امریکی منصوبوں کے خلاف  لڑنے میں کامیاب ہوتا ہے تو پھر یہ اپنا چہرہ  بھی بچاسکتا ہے اورشام میں ایک مقام بھی پیدا کرسکتا ہے۔  کیونکہ ترکی کو ایسا کرنا ضروری ہے  اس کے لئے جو پناہ گزینوں کا مسئلہ ہے  جس پر یورپی یونین نے ترکی کو پیٹ دکھائی کہ  نہیں ہم ان کو حل نہیں کریں گے۔اور ایسے میں اگر یہ  شام کے پناہ گزین ترکی میں اس طرح زیادہ دیر تک  رہیں گے ترکی کیلئے بہت سارے مسائل پیدا ہونگے اس لئے ترکی کو کوشش کرنی پڑےگی  کہ وہ ثابت کردکھائے کہ  میں شام کی مدد کیلئے آیاہوں ۔اگر یہ ایسا ثابت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے پھر اس کے اندرونی مفادات حاصل ہو سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ   بہت سارے ایشوز ہیں ترکی کیلئے شائد ٹائم نہ ہوان کی طرف اشارہ کروں۔ مگر یہ طے ہے کہ  برُی طرح پھنس چکا ہے۔ بڑ اامتحان ہے ترکی کیلئے ، یا یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ اسرائیل کا بنیادی آلہ کار ہے یا اس کو ثابت کرنا ہوگا کہ سنی دنیا کا سب سے سنجیدہ کامیاب رہنما ہے۔

سوال :مگر زمینی حقائق کچھ  اور ہیں اگرچہ اردوغان صاحب ابھی اچھے بیانات دیے ہیں لیکن ان کا ماضی کچھ اور کہہ رہا ہے 2009 ء کے اندر کیا ہوا اس وقت اردوغان صاحب نے اسی طرح کہا  کہ  ہم اسرائیل کےساتھ تمام تعلقات منقطع کر لیں گے مگر پھر ایسا کچھ نہیں کیا، حتی بعد میں ترکی  کو داعش کی چھاونی میں تبدیل  کیا اورمسلمان  کشی میں  بڑھ چڑھ کے حصہ لیا اورترکی کو  داعش کا ہیڈ کواٹر میں تبدیل کردیا اسرائیل کی جتنی خدمت  ہوسکتی تھی اردوغان صاحب نے  کی یہ ان کاماضی ایسا ہے ایسے میں روش مستقبل کی اُمید کیسے لگائی جاسکتی ہے؟

ج)یہ بات صحیح ہے، مگر الحمدللہ آج کل کے زمانے میں جو شیعہ سیاست  میں آگے ہیں،چونکہ یہ جو دین اورسیاست کو الگ کرکے سیاست حاکم بنائی گئی ہے اس کے مقابلے میں اصلی سیاسی فکر جو اہلبیت علیہم السلام  نے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں  دنیا  کو دکھانے کی کوشش کی مگر ان کو نہیں سمجھا  گیا۔ مگر اب الحمد للہ آج شیعہ میدان میں  آئےہیں، آج کربلا والے میدان میں آئے ہیں جو صحیح انسانی اقدار کی بالادستی والی سیاست کا نمونہ پیش کررہے ہیں۔ امام خامنہ ای نے پچھلے ایک بیان میں  اس  امریکی صدر کو مخاطب ہوکر بہت  ہی خوبصورت جملہ کہا، فرمایا؛امریکہ کہہ رہا ہے کہ ایران   امریکہ سے ڈررہا ہے۔ جی نہیں،   ایران امریکہ سے نہیں ڈررہا ہے ،اگر ایران امریکہ سے ڈر تا تو اسے ایران سے نکال باہر  نہیں کرتا  ،یہی نہیں کہ ایران سے  نکال باہر نہیں کرتا  بلکہ اسے خطے میں نکال  باہر نہیں کرتا۔ ابھی ایک  ایسا پہلون مجاہد میدان میں ہے جس نے امریکہ اوراسرائیلی منصوبے کو ایک  ایک کرکے ناکام کرکے ثابت کردکھایا۔اورترکی بھی یہ دیکھ رہا ہے۔ اسی لئے اس نے اپنا ٹیون لیا  ہے ۔کسی حوالے سے اب ترکی بہت ہی ایران کی نزدیک آنے کی  کوشش کررہا ہے اوروقت کی ضرورت  بھی ہے کہ امت مسلمہ متحد ہوکر ابھرے۔ اسی لئے ایران پوری امت اسلامیہ کو بار بار یہی دعوت دیتا رہا ہے۔ایسے میں حقیقت میں اردغان صاحب پر  ہمیں اعتماد بھی کرنا پڑےگا، ان کی باتوں پہ اعتماد کرنا پڑے گا اوراس کی اُمید بھی رکھیں ،کیونکہ  خود ترکی کے لئے امتحان  ہے۔کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سنی  ورلڈ میں  سبھی قائدین نے، رہبروں نے، لیڈروں  نے ثابت کردکھایاکہ وہ بکیے ہوئے ہیں ۔ایسے میں فرنٹ لائن پہ ابھی ترکی نظر آرہا ہے ترکی کو اپنی صداقت کو ثابت کردکھانا ہوگا ۔

سوال : زمینی حقائق کے پیش نظر آل سعود  کا معاملا ختم ہورہا ہے سعودیہ کی حکومت گرنی والی ہے کیا ترکی سعودیہ کی جگہ لینے کیلئے اس طرح ہاتھ پیر مار رہا ہے؟

ج) ایک ہی وجہ نہیں،  یہ بھی ایک وجہ ہے جس کی طرف میں نے پہلے بھی اشارہ کیا۔اگر شام کے حوالے ترکی کے کردار پر نظر ڈالیں  لگ بھگ سات سال  لگاتار ہر  زوایے سے ہر فرنٹ  پر بہت زبردست سرمایہ گذاری کی اور اپنے آپ کو داؤ پہ لگایا لیکن بہت ہی اینوسمنٹ کرنے کے باوجود  اب بھی وہ خالی ہاتھ ہے۔ اورجو ابھی سعودی عرب  کی حالت  ہے دوسرے مسلمان ممالک  کی حالت ہے وہ  سب کی  کھل چکی ہے ایسے میں ابھی  مسلم ورلڈ میں ترکی کو  سیاسی قد اونچا کرنے کیلئے  بہت ہی سنہرا موقعہ ہے۔ اب وقت ہی فیصلہ کرےگا کہ کیا اردوغان صاحب وہ سنہرا موقعہ   حاصل کرسکتا ہے یا نہیں۔اور  یہ بہت ہی کٹھن امتحان ہے۔  کیونکہ جس طریقے سے وہ ابھی اس  جنگ میں الج پڑا ہے اور جس میں اس کو بہت سارے چلینجوں کا سامنا ہے۔ اس  کیلئے صرف  یہی راستہ ہے کہ وہ  جو کچھ اسرائیل کے خلاف کہہ رہا ہے ، اس کو  عملی طورپر کردکھائے جس سے وہ ترکی کو بھی بچاسکتا ہے اورمسلم ورلڈ میں بھی اپنی جگہ  بناسکےگا  ،یہ ایک اوپشن ہے ۔

سوال :یہاں ایک اور نقطہ ہے جیسے ہی آل سعود حکومت گرتی ہے وہ یہاں سے رخصت ہوتے ہیں اورپیچھے سے ترکی جو  پہلے بھی حجاز مقدس پر  حکومت کرچکی ہے خادمین حرمین شریفین کا دعوی کرنے لگے جبکہ  اب زمینی حقائق تبدیل ہوچکے ہیں اب مقاومت  کی زمین بھر چکی ہے  اب مقاومت کی فوجیں کھڑی ہیں ایسے میں کیا ایران کے بغیر ترکی کسی ایسے مقام کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے؟

ج)نہیں۔یہ بات میں اس لئے نہیں  کہہ رہا ہوں کہ  میں شیعہ ہوں ،میں ایران میں بیٹھ کے بات کررہاہوں۔نہیں۔بلکہ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ مسلم ورلڈ کے مسائل کو  لیکر اب  ایران کے بغیر کوئی مسئلہ  حل نہیں ہوسکتا ہے۔مسلم ورلڈ ہی  نہیں بلکہ  دنیا کے  جملہ مسالک خاص کر خطے کے جتنے بھی مسائل ہیں چاہئے وہ امریکہ سے ریلیٹڈ ہوں،افریقہ سے ریلیٹڈ ہوں، ایشیا سے ریلیٹڈ ہوں ایران کے بغیر  کوئی بھی ایشو صحیح طور سے ایڈرس  نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ  ایران نے عملی طور پر اپنے آپ کو  مرد میدان ثابت کر دکھایا  ہے ۔ابھی 9جنوری کو جو سیکورٹی  کانفرنس ورلڈ سیکورٹی کانفرنس  تہران میں ہوئی  جس میں  دنیا بھر کے غیر  مسلمان ممالک شرکت کیلئے آئے تھے تاکہ سیکورٹی کے جو مسائل ہیں جن کو ایڈریس کرنے میں ایران نے مہارت دکھائی ہے وہ جان سکیں۔یعنی ابھی ایران، ان کو درس دے رہا ہے ان مسائل پر،یہ میدانی صورتحال ہے کہ کسی بھی سوشل ،پولٹیکل ،ایکنامکل  ایشو کو لیکر  ایران کو ایک دور  نہیں کیا جاسکتا ہے  ۔ایسے میں  مسلم ورلڈ کیلئے اسے الگ تھلگ کرنا ممکن نہیں ہے۔

 جو میتھڈ پریکٹکلی  اور تھیوریٹکلی ایران نے ایمپلیمنٹ کرکےدکھایا اورچالیس سال سے اس کا لوہا منوایا، جس کا اوٹ پٹ اتنا برلینٹ  اور شاندار ہے کہ غیر مسلمان اور ایران کے کھلے دشمن تسلیم کرتے ہیں اوراس تناظر میں ہو ہی نہیں سکتا  کہ مسلم ورلڈ میں  کوئی تبدیلی آئے اوراس میں ایران کو نظرانداز  کیا جائےگا، نہیں کرسکیں گے ،جس کا نمونہ ہم نے یمن میں دیکھاہے یہاں سعودیہ نےاتحاد بنایا کیا کچھ ہوا ،ایران کو نظرانداز  کرنے کی کوشش کی گئی، کوئی تعمیری رول نہیں پلے کرسکے ہیں، جہاں یہ لوگ   مسئلہ منٹوں میں حل  کرنے جارہے تھے۔کیا ہوا، اس کے برعکس  مثلاً شام  کو ایران  نے  کہا یہ ریڈ لائن ہے اس کو کراس کرنے نہیں دیں گے،امریکہ کو کراس کرنے نہیں دیا،اس کے علاوہ جو اسرائیل کی   یہ درگت بنائی وہ ایران نے بنائی ہے جو کبھی پورے خطے پر حکومت کرنے کی آرزولیے  ہوئے میدان میں آئے تھے  یہ ابھی  اپنے زوال کے دن گن  رہا ہے۔ ایسے میں جسطرح ابھی ترکی ایران کےساتھ بالکل برادرانہ سلوک کےساتھ صلاح مشورے کےساتھ ابھی کام کررہا ہے اُمید ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے کہ وہ استعمار اوراستکبار کی خلاف ہے اورجو آج  کا بھی اس کا بیان ہے کہ اس کا  اعتراف ہے اس نے کہاکہ  مجھے اوبامہ نے بیوقوف بنایا ہے کہ میں نے اس کے وعدے میں دھوکہ کھایا اب اگر یہ اپنی غلطیوں کا اعتراف  کریں کہ میں نے دھوکہ  کھایا ہے اوراس کیلئے سنہرا موقعہ ہے  وہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کریں  ہم تو یہی اُمید رکھے گیں ۔

سوال :آپ کےسامنے  دیگر ممالک کا کردار بھی  ہے یہی قطر  جو دہشتگردوں کے بالکل شانہ بہ شانہ شامل تھا ان کے لئے اینوسمنٹ زیادہ کی تھی آخر کا دہشتگردوں کا مخالف اور سعودی بلاک سے ہٹاہوا ہے؟

ج)بالکل۔ ابھی  سب دیکھ رہے ہیں کہ  ایران نے جو ماڈل سیٹ  کرکے دکھایاکہ  جو قرآن بھی کہتا ہے" لَا شَرْقِیةٍ وَلَا غَرْبِیةٍ " امام خمینیؒ  اسی پہ قائم رہے کہ  نہ ہم  امریکی بلاک کے تابع  رہیں  نہ سویت یونین بلاک کے تابع رہیں اوراس نعرےسے سویت یونین کا دیکھا کہ  کیا حشر ہوگیا  کتنے ملکوں میں  بکھر کر رہ گیا۔  اب امریکہ کو باری ہے، ہم امریکہ  کی درگت دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح اس کی سوپر میسی  کیسے بکھر رہی ہے ۔تو اسطرح جو اپنے پیروں پہ کھڑا  ہو کر اپنا لوہا منوانے کا  جو ایک ماڈل ایران نے سیٹ کیا ہے ، اس سے دوسرے ممالک  میں بھی اُمید  ان میں پیدا ہوگئی ہے  ۔اور اس کے علاوہ یہ اسلامی سیاست  کا نمونہ ہے کہ  جو صبح کا بھولا  شام کو گھرا ٓئے اس کو بھولا نہیں کہیں گے ۔جب بھی کوئی بھی مسلمان غلطی  کرے اوراس کو جب اپنی غلطی کا احساس  ہوگا اس کو کھلے بازوں سے استقبال کیا کرنا ہے اور  ایران نے وہ ہر دفعہ دکھایا۔قطر کا آپ نے دیکھا  ایران نے وہی سلوک کیا۔ ترکی کےساتھ    ایسا ہی سلوک کیا اورایسے ہی دیگر مسلمان مما لک کے ساتھ،حتیٰ  فلسطین پہ اپنے آپ کو  داؤ پہ لگایا ہے جبکہ فلسطینیوں  نے کئی بار پیٹ دکھائی  مگر پھر بھی  ایران وہی اسلامی  سیاست کو  فالو کرتا رہا  ہے اورکربلا کی سیاست بتارہا ہے کہ  جس  حُر نے سارے مصائب کے سامان فراہم کئے  جب اس کو غلطی کا احساس ہوگیا  امام حسین علیہ السلام نے اس کا استقبال کیا ۔ ابھی امام خامنہ ای نے سعودی عرب کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ اگرچہ تمام پریشانیوں کی جڑ اور بڑا خائین ہے مسلمانوں  کا سعودی عرب، اگر یہ بھائی چارے پہ آتا ہے تو ہم کھلے باہوں سے اس کا استقبال کریں گے۔اور ترکی کو اس کا اندازہ  ہورہا ہے کہ بس اسی سیاست سے  مسلمانوں کی نجات ہے اورمسلمان  ملکوں کا بھی سر  اسی سے اونچا رہ سکتا ہے ۔

سوال : حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش  کے پیچھے کیا عوامل کارفرما رہتے ہیں ؟

ج)  تمام ادیان،  مذاہب اورمسالک کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہے  خاص کر  مسلمان معاشرے  کے خلاف، جسطرح میں نے آپ کے ہی ایک پروگرام میں فن ویکس(FunVax) گارڈجین "دی گارڈ جین"( The God Gene)کے حوالے سے بات کی تھی۔ اگرچہ وہ پوری دینی ذہانت کو  لیکر فوکس کیاگیا ہے مگر مسلمان نشانے پر ہے۔اسی طرح  سوشل میڈیا پر جو ہم دیکھتے ہیں کہ   بڑے ہی  معتبر الفاظ میں پیغام ہوتا ہے کہ مثلاً  یہ ایس ایم ایس  اتنے لوگوں تک پہنچا ئیں شیر کریں تو آپ  کی حاجت پوری ہوگی، آپ خوشخبری سنیں گے وغیرہ۔  وہ پیغام اتنا ہی  خوبصورت ہوتا ہے ، اتناہی پاؤر فل  مذہبی جذبات سے بھرا ہوتا ہے  کہ دیکھنے والا بلافاصلہ اس کے سامنے جذب ہوتا ہے کہ میری دعا قبول ہوجائےگی، اللہ میری بات سنے گا ،آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری بات سن رہے ہیں  اہلبیتؑ کی بات ہے  کیوں نہ میں دوسروں کے ساتھ شیر کروں۔ تو اسطرح درواقع یہ دین و مذہب کا مذاق بنایا جارہا ہے ،فن بنایا جارہا ہے۔اسی طرح دینی و  مذہبی اختلافی مسائل کو لے کر جہاں پر بھی  تفرقہ انگیز باتیں پھیلائی جاتی ہے جانوں کے اختیار میں دی جاتی ،جبکہ  کس جوان کو پتہ ہوتا ہے  کہ مثلاً سنی  کی فلاں کتاب میں فلاں صحفے کے فلاں جگہ پہ  شیعوں کے خلاف یوں لکھا گیا ہے ۔یا سنیوں کے خلاف اسی  طرح۔ مسالک کے اختلافی نقاط کھوجنے کیلئے اسرائیل  میں ایکسپرٹ بیٹھے  ہوئے ہیں جو  یہ کام کرتے ہیں، ان کا مشن  ہی یہی ہے جو   ہمیں غیر شعوری طورپر  ہمیں دین و مذہب اور علماء پر اعتماد  ختم کرنے کی کوشش  کی جارہی ہے۔ ہردین و مذہب کے پیرو کو بالعموم اور مسلمان جوانوں  کو بالخصوص دلسرد اور نااُمید کرنے کی  کوشش کی جارہی ہے جس کے بہت سارے زوایے  ہیں،میدان ہیں۔ کتنے ہزار وں کی تعداد میں سوشل میڈیا اکونٹس   کھولے گئے ہیں۔ کتنے  اس موضوع پر منصوبہ بندی کے ساتھ پروگرام  بن چکے ہیں۔ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کس کس طرح سے جوانوں کے اذہان کو منحرف کرنے کیلے کام ہو رہا ہے ۔

  آپ دیکھے چھوٹی سی مثال لیں  کہ آپ  شیعہ کو  لیں گوگل پہ لکھیں تو وہاں پر آپ کو شیعہ کا مطلب صرف  خون سے لت پت   شیعہ دکھائی دےگا۔  شیعہ یعنی بس خونی ماتم کرنے والا  ہے۔ جبکہ  نہیں بتائیں گے شیعوں سے  کئی گنا زیادہ عیسائی  خون کی ہولی کھیلتے ہیں  ،ہندو خون کی ہولی کھیلتے  ہیں ،دیگر مذاہب میں   ایسے حرکات رائج ہیں کہ  جن کی تصویریں دیکھ کر  ہی انسان کانپ اُٹھتا ہے۔ مگر وہ آپ گوگل پر دیکھیں گے۔بلکہ اس کے برعکس ایسی تصویریں پروجیکٹ کی جاتی ہیں۔کیا  یہ کوئی شیعہ کررہا ہے؟ اسی طرح ایسی   کئی مثالیں ہیں  جو بظاہر ہمارے  دل کی دھڑکن نظر آتے ہیں، مگر  وہ دشمن کا غیر محسوس  منصوبہ ہوتا ہے  کہ ایک فکر پیدا کی جائے کہ جس سے جوان دینی و مذہبی امور کو   مولویوں کی دکانداری  سے تعبیر کریں ۔البتہ  ہر سماج میں ایسے مذہبی  علماء  ضرور پائے جاتے ہیں  جوبیکے ہوئے ہوتے ہیں   جو درباری ملا کہلاتے ہیں، وہ ضرور ہیں  مگر ان کو فوکس نہیں کیا جاتا ،  ان کے کرتوت فاش نہیں ہوتے ۔ اگر  آپ کسی  اورپروگرام میں  مجھ سے جو اس کا ٹرمپ  کے بغل میں   لبنان کا مولوی صاحب دیکھنے کو ملتا ہے   ان کے بارے میں مجھ سے پوچھیں میں حقائق کو پیش کروں گا۔یہ مولوی صاحب کیوں اتنا چہیتا ہے امریکہ  کا،شیخ صاحب کا نام محمد الحاج حسن ہے۔ تو ایسے بہت سارے علماء ہیں جو ذرخرید  ہیں تو  ان کے کرتوت کو پروجیکٹ کرکے  وہ کچھ بتایا جاتا ہے کہ جس سے  بزرگان دین کی توہین کئے جانے کا میدان فراہم ہو  تاکہ امام خامنہ ای کی توہین کی  جائے،حضرت آیت اللہ سیدسیستانی کی توہین کی جائے ،مرجعیت کی توہین کی جائے ،امامت کی توہین کی جائے۔ شیعہ اماموں کی یا سنی اماموں کی توہین کی جائے مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔

  کھیل کھیلنے والے اور ہوتے ہیں ا ان کی تصویر سامنے  نہیں لائی جاتی ہے ۔۔۔

سوال : مسلمانوں کے درمیان جو خود کے مشکلات ہیں انہوں نے امریکہ کو کیوں شیطان بزرگ کو قراردیا  ہے ؟

ج)  امریکہ بڑا شیطان ہے  ۔ حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے جو امریکہ کو بڑا شیطان کا لقب دیا جو کہ حقیقت میں قرآنی رہنمائی کا پرتو ہے۔ شیطان ایک خودمختار موجود ہے جو انسان کا حریف اور کھلا دشمن ہے جس کے بارے میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : "بے شک  شیطان  تمہارا کھلا دشمن ہے"۔[[1]] "اور اللہ سبحان و تعالی نے قرآن میں شیطان کی کچھ یوں تعریف کی ہے تقریبا 30آیات ہیں میں نے کسی اور موضوع  کیلئے جمع کی ہوئی ہیں آپ نے سوال کیا میں جلد ہی انہیں نکالا تاکہ آپ سے شیر کروں کہ بڑا شیطان امریکہ کیوں ہے اور قرآن ہمیں شیطان کے بارے میں کیا کہتا ہے،آپ توجہ کریے گا اور بعد میں ایک ایک آیت کا ریفرنس مجھ سے پوچھئے گا تاکہ بتا سکوں :

شیطان دوست بن کر دشمنی کرتا ہے [[2]] شیطان ہمیشہ اپنے خالق و رب کا منکرہے[[3]]۔شیطان اقتصادی پریشانیوں سے ڈرا کر اخلا ق کو خیر باد کہنے کی ترغیب دیتا ہے [[4]]۔شیطان کھوکھلے اور جھوٹے وعدہ دیتا ہے [[5]]۔شیطان آپسی رسہ کشی پیدا کرتا ہے [[6]]۔شیطان شوشے پھیلاتا ہے [[7]]۔شیطان کا کام کانا پھوسی کرنا [[8]]ہے ۔ شیطان برائی پر خوبصورت کا رنگ چڑھاتا ہے[[9]]۔شیطان اپنے نقش و قدم پیش کرتا رہتا ہے[[10]]۔شیطان کا نقشہ انتہائی کمزور ہوتا ہے [[11]]۔شیطان انسان کو آخر کار ذلیل کرکے اکیلے چھوڑتا ہے[[12]]۔شیطان کا کام سرکشی ہے[[13]]۔

آپ نے دیکھا کہ خدا نے شیطان کا خاکہ کیا بتایا ہے۔ اب اگر یہ کام میں کروں  یہ شیطان میں ہوں،ایسے میں جس کی جو مکمل اور جامع تصویر ہے  وہ یہی امریکہ ہے کہ کن خوبصورت نعروں سے دنیا کو گمراہ کرتا ہے ۔ جمہوریت کی دعویداری کررہا ہے امریکہ جاکر دیکھئے کہ وہاں جمہوریت کہاں تک ہے۔ انسانی اقدار کی حفاظت کی بات  کرتے ہیں، ہیومن رائٹس کی  بات کرتے ہیں۔ آپ میدانی صورتحال  دیکھئے کہ امریکی حکومت کتنی وحشی ہےکس وحشی گری کےساتھ اپنے باشندوں کے ساتھ کیسے پیش آتی ہے۔اپنے شہریوں کےساتھ کیسے نژادی تعصب حاکم ہے اس پر ذرائع ابلاغ میں کوئی تبصرہ نہیں ،اگر مشرق زمین خاص کر کسی مسلمان ملک میں اس قسم کی معمولی حرکت سرزد ہو جائے تو ذرائع ابلاغ میں ابال آجاتا ہے مگر خود امریکہ میں لوگوں کو کیسے  کرش/کچلا جارہا  کیا جار ہے اور سو ملین(10کروڑ/15فیصد آبادی) کےلوگ  وہاں  کتنی فقر و بدبختی میں گذاررہے ہیں اور امریکی پولیس  سالانہ  سیکنڑوں اپنے شہریوں کو  مارتےہیں یہ خود ان کی رپورٹس ہیں یہ سب دنیا کو نہیں بتا رہے ہیں، اگر ایشیائی ملک میں خاص کر   کسی مسلمان ملک میں کوئی  بھی ایک غلطی ہوگی اس کو پروجیکٹ کرتے ہیں ،یہاں کے عوام میں نفسیاتی دباو میں ڈالتے ہیں جبکہ ہمارے سرزمینوں کےاندر جو خزانے ہیں  ان کو لوٹتے ہیں  بدلے میں  ہمارے معاشرے میں فقر وبدبختی  لاتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جو  ہم اگر کہتے ہیں کہ اگر مسلمان چور بنے  لعنت امریکہ کو بھیجنی چاہئے۔ کیونکہ  امریکہ  ہی نے انسانوں کو اپنے اس شیطانی جال میں پھنسایا ہے جس سے جرم و جرائم کا بازار گرم ہے ۔

سوال :مگر یہاں پر جو دوسری سوچ ہے میں اس کی بھی ترجمانی کرتا چلوں  تاکہ ان لوگوں کی بھی تسلی ہوجائے جو لوگ کہتے ہیں کہ جو دودھ والا دودھ میں پانی ملاتا ہے وغیرہ تو اس کا امریکہ کے ساتھ کیا تعلق ہے اس پر امریکہ مردہ باد کیوں کہنا  ہے ؟

ج)دیکھئے امریکہ کے بارے میں آپ نے ایسا سوال کیا، مجھے اس کے انتھٹک اور مستند جواب دینا چاہئے تھا ،سعودیہ اور امریکہ کا تیل معاہدہ  کے سال کا ڈیٹ ذہن سے نکل گیا قریب 70 سال پہلے  امریکہ نے سعودی عرب سے معاہدہ کیا تیل کا اس 70 سالہ پرانے ریٹ پر   جو تیل لے رہا   امریکہ اب  بھی  سعودیہ سے اسی حساب سے معاملہ کررہا ہے جس سے امریکیوں کے لئے تیل پانی کی گلاس سے بڑا سستا ہے۔ تو آپ سعودیہ کے عوام کو دیکھئے کہ  ان کی اقتصادی حالت کیا ہے  ابھی میں نے نیوزنور پرآرٹیکل 2014 ء کا ایک مقالہ جس کا میں نے ترجمہ کیا تھا دوبارہ شائع کردیا جس میں  ایک یورپی اسکالر نے،  امریکی محقق نے ڈاکٹر کیون بیرٹ نے  " امریکہ  میں جمہوری انقلاب کی ضرورت " عنوان کے تحت لکھا تھا جس میں اس نے اپنی پوری رپورٹ میں بتایا کہ  امریکہ نے کس کس ملک کو کسطرح کنگال کیا اور کہاں  کس سال  کس ملک میں  وہاں کی حکومت بدلی  یعنی وہی ان کے چور حاکم بنائے۔ مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:" امریکی حکام کے مطابق دوسروں ملکوں کی حکومتوں کی تخت  پلٹنے سے مراد جمہوریت ہے تیسری عالمگیر جنگ کے بعد  امریکہ جن ملکوں کی  حکومتوں کو گرانے میں  کامیاب ہوا ان کی  مختصر تفصیل یوں ہے:اٹلی کی حکومت 1947 ء میں ،کوسٹاریہ کی 1948ء میں ،شام  کی 1949ء میں ،لبنان کی 1952ء میں  ،ایران کی 1953ء میں ،اٹانالہ کی 1954ء میں  اور1982 ء میں دوبارہ ،نواس کی 1957ء میں ،السوہا ڈور کی 1960 ء اور1984 ء میں ،کانگو کی 1960ء میں ،ڈوبنگ ریپکٹ کی  1961ء اور1965ء میں ،ایکوڈور کی 1961ءاور1965ء میں ،ایخوڈور کی 1961 ء اور1981ء میں ،جنوبی کوریا کی 19961 ء میں ،جنوبی ویت نام کی 1963ء میں ،عراق کی 1963میں  اور2003 ، برازیل کی 1964 ء میں ،انڈونشیا کی 1965ء میں ،یونان کی 1967 ء میں ،امبوریا کی 1970 ء میں ، مصر کی 1970ء میں ،چلی کی 1973ء میں ،یروگوا کی 1973ء میں ،آسٹریلیا کی 1975ء میں ،سعودی عربیہ کی ء1975ء میں ،پرتگال کی 1975ء میں ،تھائی لینڈ کی 1976 ء میں ،جنجنیا کی 1976ء میں ،ترکی 1980ء میں ،پانامہ کی 1981ء اور1989ء میں ،چارٹ کی 1982ء میں ،کنینڈا کی 1983ء میں ،سویڈین کی 1986ء میں ، پاکستان کی 1988ء میں ،افغانستان کی 1980ء میں  اور2001ء میں  ارونڈا اوربروڈلی کی ،یوگو سلوایہ 1904 ء میں ،2000ء میں سوڈان کی ،لیبیا کی 2011ء میں اوریوکرائن کی 214ء میں وغیرہ"

 تو یہ چٹا بٹا خود امریکی  لکھتے ہیں۔ اگر آپ  دیکھیں گے امریکہ کس طرح   شیطان صفت  حاکموں کو عوام کے سر پہ مسلط کرتے ہیں جس کی وجہ سے جو  ہمارا جو دودتھ میں پانی  ملانے والا پیدا ہوتا ہے جس کو یہ حکومت ایسا کرنے کیلئے مجبور  کرتی ہے۔کیونکہ جب اس کو انصاف نہیں ملا،   جب اس پر  اقتصادی  بدحالی سوار رہی وہ  چوری کرنے پر اُتر آتا ہے،جبکہ وہ   چور  نہیں بلکہ وہ حاکم چور ہیں  جس نے اس کے لئے شیطانی فضا قائم کی۔

قرآن  میں شیطان کا خاکہ بتایا گیا ہے،  دیکھئے دنیا بھر میں ان شیطانی منصوبوں پر کون کام  کررہا ہے ۔آپ  دیکھئے کہ یہی ایران جب  کل تک یہاں شیطان حاکم تھا رضا شاہ پہلو ی تو یہ  ایران امریکہ اور ان کے اتحادیوں کا فیورٹ تھا۔کیوں؟ کیونکہ وہ شیطان تھا ۔اب ایران کیوں فیورٹ نہیں ہے ؟ کیونکہ اب حاکم  رحمانی لوگ آگئے ہیں جن سے شیطان کی بنتی نہیں ہے ۔جہاں جہاں  جو جو ملک  اس خودمختاری کے اصول کو سمجھ  رہا ہے وہ  امریکہ  کا دشمن  ہے ۔

جہاں بھی آپ دیکھیں گے بدحالی ہے اس کے پیچھے  کسی نہ کسی شکل میں امریکہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ بڑے منجھے ہوئے سیاستدان  کہتے  میں مولوی صاحب نہیں  کہ جو مسجد سے محراب  تک کی باتیں  جانتا ہے۔ نہیں یہ دنیا کے  منجھے ہوئے   سیاستدان ہیں جو عالمی مسائل کو سمجھتے وہی کہتے ہیں کہ  اگر د نیا بھر میں  کوئی، کسی جگہ ڈاکہ  زنی ہوتی ہے، چوری ہوتی ہے، زنا ہوتا ہے، گناہ ہوتا ہے، اس کے پیچھے آخرکار  یہی استعماری اوراستکباری  ہاتھ ہوتے ہیں خاص کر  امریکہ اوراسرائیل کا۔اس لئے سب مل کر کہتے ہیں امریکہ مردہ باد ، اسرائیل مردہ باد۔

 



[1] «یاسین/60»

[2] فَأَزَلَّهُمَا الشَّیطَانُ «بقره/36»

[3] کَانَ الشَّیطَانُ لِرَبِّهِ کَفُورًا«اسراء/27»

[4] الشَّیطَانُ یعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیأْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَاءِ «بقرہ/268»

[5] یعِدُهُمْ وَیمَنِّیهِمْ وَمَا یعِدُهُمُ الشَّیطَانُ إِلَّا غُرُورًا«نساء/120»

[6] إِنَّ الشَّیطَانَ ینْزَغُ بَینَهُمْ  «اسراء/53»

[7] أَلْقَى الشَّیطَانُ فِی أُمْنِیتِهِ «حج/52»

[8] إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّیطَانِ  «مجادلہ/10»

[9] الشَّیطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ«محمد/25»

[10] خُطُوَاتِ الشَّیطَانِ«بقرہ/168»

[11] إِنَّ کَیدَ الشَّیطَانِ کَانَ ضَعِیفًا«نساء/76»

[12] الشَّیطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولًا«29»

[13] شَیطَانٍ مَارِدٍ«صافات/7» 

تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی