پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

طلب یقین و عافیت

 محضر امام خامنہ ای

یقین و عافیت کی طلبگاری

بسمہ تعالی

طلب یقین و عافیت

رھبر معظم حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے دروس شرح حدیث کے منتخب حدیث کا ترجمہ

من خطبة علی «علیه السلام» المعروفة بالدیباج:

عباداللّه، سلوااللّه الیقین، فإنّ الیقین رأس الدّین وارغبوا الیه فی العافیة فإنّ أعظم النعمة العافیة فاغتنموها للدنیا والآخرة.

(تحف العقول صفحه 150)

یقین، مراتبى دارد، و هر مرتبه‏اى از آن که فرض شود، مرتبه‏ى بالاترى براى آن وجود دارد، لذا ائمه اطهار (علیهم السلام) با این که در مراتب عالیه یقین بودند باز هم از خدا طلب یقین مى‏نمودند.
دراین حدیث، یقین تشبیه به رأس شده چون همانطور که سر منشأ هدایت حرکات و سکنات آدمى است، یقین هم در دین انسان چنین نقشى را دارد.
و تحصیل یقین از دو راه ممکن است: یکى تأمل و تفکر در دلائل و مبادى دین و حقانیت شرع مقدس اسلام و دیگرى توجه به ذات مقدس الهى و تضرّع و خضوع در پیشگاه با عظمت او.
عافیت که در روایات آمده آن چیزى نیست که ما در عرف خودمان از آن تعبیر به عافیت‏طلبى مى‏کنیم، که انسان در کنجى خزیده و در میدان جهاد وارد نشده با وظائف بزرگِ زندگى مواجه نگردد. بلکه مراد، عافیت در اعتقاد و عمل و محفوظ ماندن از وساوس شیطانى و نفسانى است. انسان در میدان جنگ هم باید از پروردگار طلب عافیت کند یعنى از او بخواهد که دچار شک و ترس و تزلزل نشودامام سجاد (علیه السلام) در دعاى بیست‏ و سوم صحیفه سجادیه به ابعاد مختلف عافیت، اشاره کرده و آن را از پروردگار طلب نموده‏اند.

جلسه سى و پنجم

یقین و عافیت کی طلبگاری

«یقین»، کے کئ درجے ہیں، اور ھر درجہ جو اسکے لئے فرض کیاجائے ، اس سے بھی بڑا درجہ موجود ہے ، اسلئے ائمہ اطھار (علیھم السلام) جو کہ یقین کے عالی ترین درجے پر فائز تھے پھر بھی خدا سے یقین طلب کرتے تھے ۔

اس حدیث میں ، یقین کو سر کے ساتھ تشبیہ دی گئ ہے چونکہ جسطرح سر انسان کے حرکات اور سکنات کا منبع ہے ، یقین بھی انسان کے دین میں ایسا ہی مقام رکھتا ہے ۔

اور یقین حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں:

ایک۔ شرع مقدس اسلام کی حقانیت ،اور دین کی بنیادی دلائل میں غور و فکر کرنا۔

دو۔ ذات مقدس الھی کی طرف توجہ کرنا اور اسکی با عظمت بارگاہ میں تضرّع اور خضوع کرنا ۔

«عافیت» جو کہ روایت میں آیا ہے وہ نہیں ہے جو کہ ہم  اپنےعرف عام میں «عافیت طلبی» کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں، کہ انسان ہر چیز سے دوری اختیار کرے اور میدان جہاد میں داخل نہیں ہوتا، اور زندگی کی بڑی زمہ واریوں سے روبرو نہیں ہوتا۔ بلکہ «عافیت » سے مراد اعتقاد اور عمل میں شیطانی اور نفسانی وسوسے سے محفوظ رہنا ہے ۔انسان کو چاہئے وہ میدان جنگ میں بھی پروردگار سے عافیت طلب کرے یعنی اسے درخواست کرے کہ وہ شک ترس اور تزلزل کا شکار نہ ہو جائے ۔ امام سجاد (علیہ السلام) نے صحیفہ سجادیہ کے تییسویں(23) دعا میں عافیت کی قسموں کی طرف اشارہ کیا ہے اور پروردگار سے  انہیں طلب کیا ہے ۔


تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی