پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

تین رمضان المبارک حضرت عیسی علیہ السلام پر انجیل نازل

 اردو مقالات مذھبی

تین رمضان المبارک حضرت عیسی علیہ السلام پر انجیل نازل

کتاب » وقایع الایام » کے مولف کے نقل کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام پر » انجیل» تین رمضان کو نازل ہوئی ۔(1(مگر ابن کثیر نے 13  رمضان بیان کیا ہے (2) اور ایک روایت کے مطابق 18 رمضان نقل کیا گیا ہے ۔(3(

حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر عروج کرنے کے بعد ۔ مقدس کتاب » انجیل » تحریفات کا شکار ہوئی حتی نابود ہی ہو گئی ۔اور آخر کار انجیل کے نام سے پہلی کتاب تقریبا سن134  عیسوی کو » انجیل مارکیون » کے نام سے یونان میں تالیف کی گئ ۔ اس کے بعد دوسری کتابیں بڑی مذھبی شخصیتوں کی طرف سے تالیف کی گئ ۔(4(

چوتھی صدی عیسوی میں جب روم کابادشاہ » کنستانتیس اول » عیسائی بن گیاتو عیسائیت کی مقدس کتاب منتخب کرنےکیلۓ ایک انجمن تشکیل دی اور  160 سے زائد انجیل ، اور عیسائیت سے متعلق رسالے اور تواریخ اور جوکچھ بھی گرجاگھروں میں مذھبی رسومات کے طور پر پڑھی جاتی تھی اس کو جمع کرکے ، اس میں سے صرف27 کتابوں کو منتخب کیا گیا اور ان کو تورات کے مقابلے میں جو کہ » عھد عتیق » کے نام سے معروف تھی » عھد جدید » کا نام دیا ۔(5)

ان 27 کتابوں میں سے چـار کتابوں کو عیسائیت کے مختلف مذاھب نے انجیل برتر کا نام دیا ۔ یہ چار کتابیں : انجیل متی ، انجیل مرقس ، انجیل لوقا ، اور انجیل یوحنا کے نام سے معروف ہیں ۔ یہ کتابیں عیسائیت کے عروج کے دسوں سال بعد جمع کی گئ ۔(6)

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عیسائیت کی مقدس کتابوں میں سے » انجیل برنابا » کہ جسے حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری  BARNABAS نے لکھا تھا ۔اور اس کتاب کے مطالب تاریخی متون کے مطابق تھے اور قرآن میں حضرت عیسی (ع) کے بارے میں جو داستانیں بیان ہوئی ہے اس سے کافی مطابقت رکھتی تھی مگر کچھ وجوہات کی بنا پر عیسائی پادریوں نے اس کو قبول نہیں کیا اور اسکو خارج کردیا گیا ۔(7)

بہر حال جوکچھ اس وقت » انجیل » کے نام سے عیسائیوں یاغیر عیسائیوں کے درمیان موجود ہے حضرت عیسی (ع) کی انجیل نہیں ہے بلکہ آنحضرت کے حواریوں اورشاگردوں کی روایات اور یاداشتیں ہے ۔

 

مداک اور ماخذ:

1- وقایع الایام (شیخ عباس قمی)، ص 22

2- البدایہ و النہایہ (ابن کثیر)، ج3، ص 11

3 البدایہ و النہایہ (ابن کثیر)، ، ج2، ص 92

4- اسلام و عقائد و آراء بشری (علامہ یحیی نوری)، ص 452

5- – اسلام و عقائد و آراء بشری ، ص 445

6- – اسلام و عقائد و آراء بشری ، ص 448

7- – اسلام و عقائد و آراء بشری ، ص 453


تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی