پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

مغرب نوازی اور مشرق نوازی کا روگ

 اردو مقالات انقلاب اسلامی ایران مذھبی سیاسی محضر امام خمینی رہ

 امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا الہی سیاسی وصیت نامہ /قسط08

مغرب نوازی اور مشرق نوازی کا روگ

نیوزنور: امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا الہی سیاسی وصیت نامہ /قسط08/ اورمیں ملک کی سرکاری مذہبی اقلیتوں سے وصیت کرتا ہوں کہ وہ پہلوی حکومت کے زمانے سے عبرت حاصل کریں اورایسے شخص  جو اپنے مذہب اور اسلامی جمہوریہ کا وفادارہو اور جہانخوار طاقتوں سے وابستہ نہ ہو اور ملحد ،انحرافی اور التقاطی مکاتب کی طرف رجحان نہ رکھتا ہو کو اپنا نمایندہ انتخاب کریں۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور ؛گذشتہ سے پیوست امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے الہی سیاسی وصیت نامے کی  آٹھویں قسط اگلے سے پیوست ملاحظہ فرمائیں:

مغرب نوازی اور مشرق نوازی کا روگ

ھ:

ان سازشوں میں سے ایک یہ ہے کہ جس نے مع الاسف ملکوں میں اور خاص کر ہمارے پیارے ملک میں اپنے گہرے اثرات چھوڑے اور کافی حد تک اس کے اثرات ابھی بھی موجود ہیں،وہ یہ کہ استعمارنواز ممالک کو خود سےدور کرنا، اور ان کو مغرب نواز اور مشرق نواز بنانا ہے اسطرح کہ جیسے کہ خود ان کے پاس ثقافت و صلاحیت کا فقدان ہے اور مغرب(یورپ و امریکہ) اور مشرق(سویت یونین) کی دو بڑی طاقتوں کی نسلوں کو امتیازی نسل اور انکی ثقافت کو  اعلی معیاری اور ان دو طاقتوں کو اپنا قبلہ گاہ سمجھنا اور ان میں سے کسی ایک کے زیر سایہ رہنا نا قابل اجتناب فرائض کے طور پر پیش کرنا!اور اس غم انگیز حقیقت کی داستان طویل اور اس سے جو چوٹیں کھائیں ہیں اور ابھی بھی کھاتے ہیں مہلک اور تکلیف دہ ہے۔

اور اس سے بھی زیادہ غم انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے زیر اثر ستم رسیدہ اقوام کو ہر چیز میں پیچھے  رکھا اور ان کےکوکنزیومراور مصرفی ممالک میں تبدیل کردیا اور ہمیں اسقدر اپنی ترقیوں اور انکی شیطانی طاقتوں سے  ڈرایا کہ ہم میں کسی بھی تخلیقی کا م کرنے  کی ہمت پیدا نہیں ہو پاتی اور  اپنی ہر چیز اور اپنی سرنوشت اور اپنے ملکوں کو ان کے سپرد کرکے  اور چشم و گوش بستہ ان کے احکامات کی تابعداری  کرتےہیں۔اور یہ مصنوعی کھوکھلاپن اور تہی مغزی اس بات کا سبب بنی ہے کہ ہم کسی کام میں اپنی فکر و دانش پر بھروسہ نہ کریں اور مشرق و مغرب کی اندھی تقلید کریں بلکہ  ثقافت ، ادب ، صنعت اور خلاقیت و ابتکار اگر تھی بھی، تو مغرب نواز اور مشرق نواز  بی فرھنگ قلمکاروں اور مقرروں نے اس قدر نکتہ چینی کی اور مذاق اڑایا کہ ہماری اپنی فکری استعداد دب کررہ گئی اور ہمیں مایوس کیا اور آج بھی ایسا کررہے ہیں اور غیروں کے آداب و رسوم کو خواہ وہ کتنے ہی خراب اور  شرمناک کیوں نہ ہوں  قول و فعل اور تحریروں کے ذریعے رائج کررہے ہیں اور ان کی تحسین و تعریف کے ساتھ اقوام پر مسلط کرتے پھررہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کتاب، تحریر یا تقریر میں کچھ مغربی الفاظ ہوں تو ان کے محتوا اور مواد پر توجہ  کئے بغیر حیرت کے ساتھ قبول، اور ان کے بولنے یا لکھنے والوں کو دانشور اور روشن خیال سمجھتے ہیں۔ اور گہوارے سے قبر تک جو کچھ بھی لیں اگر مغربی اور مشرقی زبان میں انکی نام گذاری کی جائے تو اسے پسندیدہ اور قابل توجہ ، نیز ترقی و تمدن کی علامت سمجھا جاتا ہے ،اور اگر اس جگہ مقامی الفاظ کا استعمال  کیا جائے تو مسترد اور رجعت پسندانہ ہوگا ۔ ہمارے بچے اگر مغربی نام رکھیں تو افتخار؛ اور اگر مقامی نام رکھیں تو شرمندگی اور پسماندہ ہیں۔ سڑکوں ، گلیوں اور دکانوں ، کمپنیوں ، دواخانوں ، لائبریریوں ، کپڑوں اور دیگر چیزوں کے ناموں کو خواہ وہ ملک ہی میں بنی ہوں ، غیر ملکی ہونا چاہئے تاکہ لوگ اس سے راضی ہوں اور اسے قبول کریں۔سرتا پا مغربیت اور تمام نشست و برخاست ، معاشرت اور زندگی کے تمام شعبوں میں مغرب نوازی ، فخر اور سربلندی ، نیز تمدن و ترقی کا باعث ہے،اور اس کے مقابلے میں اپنے آداب و رسوم ، قدامت پرستی اور پسماندگی ہے۔ ہر بیماری و علالت میں خواہ ملک کے اندر قابل علاج اور معمولی ہی کیوں نہ ہو، بیرون ملک جانا لازمی اور اپنے ڈاکٹروں اور دانشمند اطبا کی مذمت اور ان کو مایوس کرنا ۔برطانیہ ، فرانس، امریکہ اور ماسکو جانا بہت فخر کی بات ہے اور حج ، نیز دیگر متبرک مقامات  کیلئے جانا قدامت پرستی اور پسماندگی ہے۔اس چیز سے بے اعتنائی ، جس کا تعلق مذہب اور معنویات سے ہے ، روشن خیال اور تمدن کے علامت ہے اور اس کے مقابلے میں ان امور کی پابندی ، پسماندگی اور قدامت  پرستی کی نشانی ہے ۔

میں یہ نہیں کہتا کہ خود ہمارے پاس سب  کچھ ہے ؛معلوم ہے کہ ہمیں تاریخی دور میں خاص طور پر حالیہ صدیوں میں ہر ترقی سے محروم رکھا گیا  اور خائن حکام مملکت ،خاص طور پر پہلوی خاندان اور اپنی(دیسی) کامیابیوں کے خلاف تشہیراتی مراکز نیز ہماری اپنی چھوٹی سوچ اور احساس کمتری نے ہمیں ترقی کیلئے ہر طرح کی کوشش  کرنےسے محروم کردیا ۔ ہر قسم کے مال  کا در آمد کرنا ، خواتین اور مردوں خاص طور پر جوان طبقے کو مختلف قسم کی در آمداتی اشیا، مثلا میک اپ کے وسائل ، زینتی اور تجملاتی اشیا اور بچگانہ کھیلوں میں مشغول کرنا، خاندانوں میں مقابلے کی دوڑ شروع کرنا اور زیادہ سے زیادہ کنزیومر اور مصرفی بننے کی شکل میں پروان چڑھانا ، جو خود غم انگیز داستانوں کا حامل ہے،بدکاریوں اور عیاشیوں کے اڈوں کو فراہم کرکے ان جوانوں کو تباہی کی جانب لے جانا ، جو سماج کے فعال ارکان ہیں اور اس قسم کی سوچی سمجھی دسیوں مصیبتیں ہیں جو ممالک کو پسماندہ رکھنے کیلئے ہیں۔

اپنے ماہرین پر بھروسہ کرنے کی ضرورت

میں ملت عزیز سے ہمدردانہ و خادمانہ وصیت کرتا ہوں کہ اب جبکہ وہ بہت نمایاں حد تک (بچھائے گئے) ان جالوں سے نجات پا چکی ہے اور موجودہ محروم نسل نیا کچھ کر دکھانے کیلئےپر کمر بستہ ہوگئی ہے اور ہم نے دیکھا کہ بہت سے کارخانوں اور ترقی یافتہ وسائل بنانے جیسے ہوائی جہاز اور دیگر چیزوں کہ جن کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ ایرانی ماہرین اپنے ان کارخانوں کو اور ایس صنعت کو خود چلا نے کی صلاحیت رکھتے ہیں اورسبھی مشرق یا مغرب کی جانب اپنے ہاتھ پھیلا ہوئے تھے کہ ان کے ماہرین ان کو چلائیں، اقتصادی ناکہ بندی اور مسلط کردہ جنگ، کے باعث خود ہمارے جوانوں نے ضرورت کے تمام پرزوں کو خود بنایا اور سستی قیمتوں کے ساتھ تیار کرکے ضرورت کو برطرف کردیا اور ثابت کردیا کہ اگر چاہیں تو ہم بھی کرسکتے ہیں۔

آپ کو بیدار و چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہئے کہ مغرب و مشرق سے وابستہ سیاستدان شیطانی وسوسوں  کے ذریعے آپ کو ان بین الاقوامی لٹیروں کی جانب نہ لے جائیں ؛اور آپ اپنی پختہ ارادی ، ہمت اور فعالیت کے ساتھ غیروں پر انحصار کرنے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

 اور جان لیں کہ آریائی اور عرب نسل، امریکہ ، روس اور یورپ کی نسلوں سے کم ذہین نہیں اور اگر آپ اپنی خودی کو بحال کریں اور ناامیدی کو اپنے سے دور کردیں ،اور اپنے علاوہ کسی غیر  سے توقع نہ رکھیں، تو طویل عرصے میں ہر کام اور ہر چیز بنانے کی توانائی پیدا کرلیں گے۔ آپ سے شباہت رکھنے والے انسان جہاں تک پہنجے ہیں آپ بھی وہاں پہنچ جائیں گے، بشرطیکہ آپ خداوند عالم پر بھروسہ اور اپنی ذات پر اعتماد رکھیں ،اور دوسروں پر انحصار کرنا چھوڑ دیں ، شرافتمندانہ زندگی کے حصول اور غیروں کے تسلط سے باہر نکلنے کیلئے سختیوں کو برداشت کریں۔

 اور ہر زمانے کی حکومتوں اور عہدیداروں کا فریضہ ہے کہ وہ نسل حاضر اور آنے والی نسلوں میں پیدا ہونے والے اپنے ماہرین کی قدردانی کریں اور مادی و معنوی تعاون سے ان میں کچھ کر دکھانے کیلئے حوصلہ افزائی کریں اورگھریلو کھپت اور گھروں کے سکون کو چھنے والی چیزوں کو روکیں اور ان کے پاس جو کچھ ہے اسی پر قناعت کریں یہاں تک کہ خود ساری چیزیں خود بنانے پر قادر ہو جائیں۔

اور جوانوں ، لڑکوں اور لڑکیوں سے میری توقع یہ ہے کہ استقلال و آزادی اور انسانی اقدار کو تجملات ، عیش و عشرت ، بے راہ رویوں اور بدکاریوں کے ان اڈوں پر فدا نہ کریں، جو مغرب اور وطن دشمن ایجنٹوں کی جانب سے آپ کیلئے بنائے گئے ہیں ، خواہ سختیاں اور دشواریاں ہی برداشت کرنی پڑیں ؛ کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ وہ لوگ آپ کی تباہی اور آپ  کو اپنے ملک کی سرنوشت سے غافل بنانا چاہتے ہیں، آپ کے ذخائر کو لوٹنے ،استعمار کی زنجیروں اور وابستگی کی ذلت میں جکڑنے، آپ کی قوم اور ملک کوکنزیمر اور مصرفی بنائے رکھنے کے علاوہ کچھ اور نہیں سوچتے اور چاہتے ہیں کہ ان وسائل اور اس قسم کی شیا سے آپ کو پسماندہ اور ان ہی کی اصطلاح میں "نیم وحشی" باقی رکھیں۔

تعلیمی و تربیتی اداروں میں دشمنوں کی سرمایہ کاری

و:

ان کی بڑی سازشوں میں سے ایک،کہ جس کی طرف اشارہ بھی کیا اور مسلسل یاد دہانی کرتا آیا ہوں،وہ تعلیم و تربیت کے مراکز اور خاص طور پر یونیورسٹیوں  کو اپنے  اثر و رسوخ میں لینے کی سعی ہے، کیونکہ ملکوں کا مستقبل یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ ان کا طرز عمل جو علماء اور دینی مدارس کے ساتھ ہوتا ہے وہ یونیورسٹیوں  اور کالجوں کے طرز عمل سے مختلف ہوتا ہے۔ان کا منصوبہ مذہبی شخصیات کو راستے سے ہٹاکر انہیں گوشہ نشین کرنا ہوتاہے؛ یا تو  جبر و تشدد اور توہین کے ساتھ کہ جسے رضا خان کے زمانے میں عملایا گیا لیکن  اس کانتیجہ الٹا نکلا ؛یا توغلط پرپگنڈوں ، تہمتوں اور شیطانی سازشوں کے ذریعے تعلیم یافتہ طبقے باصطلاح روشن خیال لوگوں کو علما سے الگ کرنا کہ اس کو بھی رضا خان کے زمانے میں عملایا گیا  اورجبر و تشدد کے مرحلے میں تھا؛اور(پھراس کے بیٹے) محمد رضا کے زمانے میں یہ عمل موذیانہ طور پر جاری رہا لیکن کسی جبر وتشدد کے بغیر بلکہ عیاری و مکاری کے ساتھ۔

 لیکن یونیورسٹیوں کے سلسلے میں ان کا منصوبہ ایسا ہے کہ جوانوں کو اپنی تہذیب و ثقافت ، اپنے طور طریقے اور اقدار سے منحرف کریں اور مشرق یا مغرب کی تہذیب کا دلدادہ بنائیں اور ان ہی میں سے سرکاری عہدہ داروں کا انتخاب اور  ممالک کی سرنوشت کا حاکم بنائیں تاکہ ان کے ذریعے جو کچھ وہ چاہتے ہیں اسے انجام دے سکیں ۔یہ لوگ ملک کو لوٹ کھسوٹ اور مغرب نوازی کی جانب لے جائیں اور علمائے دین اپنی گوشہ نشینی ، غیرمقبولیت و بے بسی اور شکست کے باعث روک تھام نہ کرسکیں۔ اور تحت تسلط ممالک کو پسماندہ رکھنے اور انہیں لوٹنے کیلئے یہ بہترین طریقہ ہے ، کیونکہ بڑی طاقتوں کیلئے کسی زحمت اور  کسی سرمایہ کاری کےاور قومی معاشروں میں کسی شور و غل کے بغیر جو کچھ بھی ہے وہ  ان کی جیب میں چلا جاتا ہے ۔

 لہذا اب جبکہ یونیورسٹیوں اور دانشسراہوں کی اصلاح  اور پاکسازی  کی جارہی ہے، ہم سب کا فرض ہے کہ مربوط ذمہ داروں کی مدد کریں ،  کبھی بھی اس کی اجازت نہ دیں کہ یونیورسٹیوں کو منحرف کیا جائے ؛اور جہاں بھی انحراف نظر آئے فوری اقدام کرکے اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اور یہ حیاتی کام پہلے مرحلے میں یونیورسٹیوں اور  دانشسراہوں کے جوانوں ہی کے قابل ہاتھوں سے انجام پانا چاہئے، کیونکہ یونیورسٹی کو انحراف سے نجات دلانا،خود ملک و ملت کی نجات ہے۔

اورمیں سب سے پہلے تمام نوجوانوں اور جوانوں پھر ان کے والدین اور انکے دوستوں اور اس کے بعد،سرکاری عہدہ داروں اورملک کے ہمدرد و روشن خیالوں سے وصیت کرتا ہوں کہ اس مہم کام میں کہ  جو تمہارے ملک کو نقصان پہنچنے سے محفوظ  رکھ سکتا ہے،کی دل و جان کے ساتھ کوشاں رہیں اور یونیورسٹیوں کو بعد کی نسل کے حوالے کریں ۔اور  میں تما م آنے والی نسلوں سے نصیحت کرتا ہوں کہ خود اپنی عزیز ملک اور انسان ساز اسلام کی نجات کیلئے یونیورسٹیوں کو انحراف اور مغرب نوازی و مشرق نوازی سے محفوظ رکھیں اور اپنے اس انسانی اور اسلامی عمل کے ذریعے اپنے ملک سے بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو ختم کریں اور ان کو ہمیشہ کیلئے نا امید کردیں ۔خدا آپ  کا مدد گار و محافظ رہے۔

مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ)، خبرگان رہبری اور شورای نگہبان کے منتخب نمایندگان کا اپنے حلف پر باقی رہنا لازمی

ز:

مہم ترین ذمہ داریوں میں سے مہم مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ) کے ممبران کا اپنے حلف پر باقی رہنا ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اسلام اور اسلامی ملک ایران نے منحرف اور غیر صالح مجلس شوری (پارلمنٹ) کے بدولت ، مشروطیت کے بعد سے لےکرمجرم پہلوی حکومت اور ہر زمانے سے بدتر اور زیادہ  خطرنا ک  اس تھوپی گئی حکومت تک کس قدر درد بھری چوٹیں کھائی ہیں؛ اور کسقدر مصیبتیں اور جان فرسا نقصانات ان ہی بے ارزش مجرموں اور نوکر مآبوں کے ذریعے ملک و ملت کو جھیلنے پڑے ہیں۔ اس(مذکورہ) پچاس سالہ دور میں ایک منحرف مصنوعی اکثریت  کے مقابلے میں ایک مظلوم اقلیت کا ہونا سبب بنا کہ  جو کچھ برطانیہ، سویت یونین اور آخر کار امریکہ نے چاہا ،ان خدا سے بے خبر منحرف لوگوں کے ذریعے  انجام دیا  اور ملک کو تباہی و نابودی کے دہانے پر پہنچا دیا۔مشروطیت کے بعد سے لے کر، آئین کے تقریبا کسی بھی مہم دفعات پر عمل نہیں ہوا۔رضاخان سے پہلے مغرب نوازں اور مٹھی بھر خان اور زمین خوار جاگیرداروں ؛اور پہلوی رژیم  کے زمانے میں تو اس سفاک  رژیم  اور اس سے وابستہ اور فرمانبرداروں کا دور چلا۔

اب جبکہ پروردگار کی عنایت اور عظیم الشان قوم کی ہمت سے ملک کی سرنوشت لوگوں کے ہاتھ میں آگئی ہے اور نمایندے عوام سے اور خود ان ہی کے انتخاب سے، حکومت اور خان و زمین خوار جاگیرداروں کی مداخلت کے بغیر مجلس شورای اسلامی(پارلمنٹ) میں پہنچ جاتے ہیں، اور امید ہے کہ  اسلام اور ملکی مفادات کے ساتھ ان کی حلف برداری ہر قسم کے انحراف کی روک تھام کو یقینی بنائے رکھیں گے۔میری وصیت موجودہ عوام اور آنے والی قوم کیلئے یہ ہے کہ اپنے پختہ ارادے ، اسلامی احکام اور ملکی مفادات کے نسبت اپنے تعہد کے ساتھ انتخابات کے دوران جو اسلام اور اسلامی جمہوریہ کے ساتھ وفادار ہو کہ ایسے افراد زیادہ تر معاشرے کے متوسط اور محروم طبقے کے درمیان ہوا کرتے ہیں اور صراط مستقیم سے نہ  بٹکے ہوئے   -مغرب یا مشرق کی طرف جھکاو نہ رکھنے والے-اور انحرافی مکاتب کے نسبت جھکاو  نہ رکھنے والے دانشوروں اور حالات حاضرہ اور اسلامی سیاست پر کڑی نظر رکھنے والوں کو منتخب کرکے مجلس شورای اسلامی(پارلمنٹ) میں بھیج دیں۔

اور علمای دین کےمحترم معاشرےخصوصا مراجع معظم سے وصیت کرتا ہوں کہ سماجی مسائل کے بارے میں خاص کرصدر جمہوریہ کے انتخاب اور مجلس(پارلمنٹ) کے نمایندوں کے انتخابات میں اپنے آپ کو الگ تھلگ نہ رکھیں اور ان دیکھی نہ کریں۔آپ سب نے دیکھا اور  آئندہ نسل سنے گی کہ مشرق و مغرب نواز ستدانوں نے مذہبی شخصیات کو کہ جنہوں نے بڑی زحمتیں اور تکالیف اٹھاکر مشروطیت کی بنیاد رکھی تھی ، سیاسی میدان سے نکال باہر کیا اور علماء بھی ان سیاستدانوں سے دھوکا کھا گئے اور ملک اور مسلمانوں کے مسائل (سیاست) میں مداخلت کرنے کو اپنی توہین سمجھا اور میدان کو مغرب نوازوں کے حوالے کردیا اس طرح مشروطیت ،   آئین،ملک اور اسلام پر ایسا ظلم کیا جس کی تلافی کیلئے ایک طویل مدت درکارہے۔

اب جبکہ بحمدللہ رکاوٹین دور ہو چکی ہیں اور ہر عوامی طبقے کیلئے عمل دخل رکھنے  کیلئے آزاد فضا قائم ہوگئی ہے ،کسی قسم کے عذر کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے اور نا قابل معافی سب سے بڑا گناہ، مسلمانوں کے مسائل سے متعلق  لاپرواہی ہے ۔جس سے جتنا ہو سکے اور جسقدر اثر و رسوخ رکھتا ہو کو چاہئے کہ اسلام اور ملک کی خدمت کریں؛اور مغرب و مشرق کی دو بڑی سامراجی طاقتوں سے وابستہ  اور سب سے بڑے مکتب اسلام سے منحرف لوگوں کے اثر و رسوخ کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ روک تھام کریں، اور جان لیں اسلام اور اسلامی ممالک کے مخالفین یہی بڑی استعماری طاقتیں بین الاقوامی ڈاکو  ہیں، آہستہ آہستہ اور خوبصورتی کے ساتھ ہمارے ملک اور دیگر اسلامی ممالک میں رخنہ پیدا کرنے کے ساتھ،اقوام  کے اپنے لوگوں کے ہاتھوں ممالک کو استحصال کے جال میں پھانس لیتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہوشیاری کے ساتھ چوکس رہیں اور(انکے) اثرو رسوخ کے پہلے ہی قدم کی آہٹ کومحسوس کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہو جائیں اور انہیں  مہلت نہ دیں، تمہارا خدا تمہارا مددگار و  نگہبان ہے۔

عصر حاضر اورعصر مستقبل کے نمایندگان مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ) سے میری خواہش ہے کہ اگر خدانخواستہ منحرف عناصرسازش اورسیاسی چالبازی سے اپنی نمایندگی کو لوگوں پر تھوپ دے،مجلس ان کےاعتبارنامے کو نا منظور کردے اورکسی ایک بھی  منحرف و وابستہ تخریب کار کو مجلس(پارلمنٹ)تک رسائی حاصل کرنے فرصت نہ دیں۔

اورمیں ملک کی سرکاری مذہبی اقلیتوں سے وصیت کرتا ہوں کہ وہ پہلوی حکومت کے زمانے سے عبرت حاصل کریں اورایسے شخص  جو اپنے مذہب اور اسلامی جمہوریہ کا وفادارہو اور جہانخوار طاقتوں سے وابستہ نہ ہو اور ملحد ،انحرافی اور التقاطی مکاتب کی طرف رجحان نہ رکھتا ہو کو اپنا نمایندہ انتخاب کریں۔

اور سبھی نمایندگان سے میری خواہش ہے کہ نہایت نیک نیتی اور بھائی چارگی کے ساتھ اپنے پارلیمانی ساتھیوں سے سلوک کریں اور سبھی یہ کوشش کریں کہ قوانین خدانخواستہ اسلام سے منحرف نہ ہوں ۔ آپ سب اسلام اور اس کے آسمانی احکامات کے وفادار ہیں تاکہ آپ کو دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل ہوسکے۔

 

تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی